خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 417

۴۱۶ 51 خطبات محمود جلد (5) خُدا تعالیٰ کے نزدیک بڑائی کا معیار تقویٰ ہے فرموده ۱۶ مارچ ۱۹۱۷ء تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔اِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَهُمْ جَنَّتُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُه (البروج :۱۱، ۱۲ ) اور فرمایا:- انسان فخر اور بڑائی کے عیب میں جب مبتلا ہو جاتا ہے تو بہت سے گناہ اس سے سرزد ہوتے ہیں۔منجملہ ان کے دوسروں کی عیب چینی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کو وہ انسان جو عیب چین ہو اور کسی مومن کوفتنہ میں ڈالے پسند نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ جو انعامات خُدا تعالیٰ بندوں کو دیتا ہے۔وہ محض اپنے فضل اور احسان سے ہی دیتا ہے۔دیکھو ایک نماز پڑھنے والے کو نماز پڑھنے کی طاقت کہاں سے ملی ہے۔ظاہر ہے خدا تعالیٰ سے۔انسان کی آنکھیں ہیں۔اس کا دل ہے۔انگلیاں ہیں۔غرض جتنے وہ اعضاء ہیں جن کو انسان عبادت میں لگاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور انعام ہیں۔اس لئے ان کے ذریعہ سے جو نتیجہ برآمد ہوگا وہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہی ہے۔اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ جس طرح کسی کو کوئی کچھ چیزیں دے اور کہدے کہ تم ہماری ان دی ہوئی چیزوں کو خرچ کرو۔اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔اب جب وہ ان سے فائدہ اٹھائے گا تو اس کا دینے والے پر کوئی احسان نہیں ہوگا۔بلکہ دینے والے کا اس پر احسان ہوگا۔اسی طرح انسان جب خدا تعالیٰ کی دی ہوئی چیزوں کو اسی کی راہ میں صرف کر کے انعام حاصل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس انعام کا نام جزاء رکھتا ہے۔جو کہ اس کا احسان اور محض بندہ نوازی اور اپنے غلاموں کی قدر افزائی ہے کہ اس کا نام جزار کھتا ہے۔کیونکہ ہماری اپنی تو کوئی چیز نہیں۔ہر ایک چیز اسی کی دی ہوئی ہے۔