خطبات محمود (جلد 5) — Page 390
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۹ شرجیل اسے اپنے ساتھ ابو عبیدہ کے پاس لے گئے۔اور تمام سرگذشت سنائی۔انہوں نے کہا کہ میں خود تو اس کے متعلق کچھ نہیں کر سکتا۔البتہ حضرت عمر کی خدمت میں سفارش کے طور پر ایک رقعہ لکھ دیتا ہوں آگے اُن کی مرضی۔جس طرح چاہیں کریں۔ابو عبیدہ نے یہ رقعہ لکھ کر دیا کہ میں جانتا ہوں کہ اس شخص کا جرم بہت بڑا ہے۔اور شاید میرے رقعہ لکھنے کہ وجہ سے آپ ناراض بھی ہوں لیکن اس کے شرجیل کو بچانے کی وجہ سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کا تب ہے۔سفارش کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ اسے معاف کیا جائے۔جب یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ تمہیں ابوعبیدہ نے معاف کر دیا ہے اس لئے میں بھی معاف کرتا ہوں لیکن اگر وہ معاف کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھتے تو میں کبھی معاف نہ کرتا۔اچھا اب تم اس طرح کرو کہ ہر وقت جنگ میں لگے رہو۔اس نے اس بات کو منظور کر لیا۔اے تو اس کا ایسا سنگین جرم تھا کہ اس کے متعلق قتل کا فتوی دیا جا چکا تھا۔اور باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب کو اس نے بچایا تھا۔پھر بھی حضرت عمرؓ اس کو معاف کرنے پر تیار نہ تھے۔مگر وہ ہدایت پا گیا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل نے اُسے نجات دلا دی۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے دل میں کوئی ایسی نیکی تھی جس نے ایسے سامان پیدا کر دئے کہ حضرت عمر کو بھی آخر معاف کرنا پڑا۔اور اس کا انجام نیکی پر ہوا۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ انجام کو اچھا یا برا کر دیتے ہیں۔اور کوئی اندرونی نیکی ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے انجام نیکی پر ہوتا ہے اور کوئی اندرونی بدی ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے انجام بدی پر ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی حالت بڑی نازک اور کمزور ہوتی ہے۔اور اس کی کسی ایک حالت میں کچھ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔قابل اعتبار وہی حالت ہے جس پر موت واقعہ ہو۔اگر کوئی شخص مرنے کے وقت مسلم ہے تو اس کی باقی ساری عمر اگر کفر کی حالت میں بھی گذری ہو تو بھی کوئی ہرج نہیں۔اور اگر مرنے کے وقت کا فر ہے تو اس کی ساری عمر مسلمان رہنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی ہے کہ۔یبنی اِنَّ اللهَ اصْطَفى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ۔کہ تمہاری موت اسلام پر ہونی چاہیئے۔تو معاملات کی خوبی یا برائی انجام پر معلوم ہوتی ہے۔درمیانی حالت پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔میں نے یہ تمہید کیوں بیان کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تازہ ایسی بات پیدا ہوئی ہے۔: تاریخ اسلام مولا نا شر رص ۱۵۶ تا ص ۱۵۸۔: سورۃ البقرہ: ۱۳۳۔