خطبات محمود (جلد 5) — Page 389
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۸ عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین اے ہمارے خدا ہمیں جنت کا رستہ دکھائے۔مگر وہ رستہ ایسا نہ ہو کہ عین اس کے سرے پر پہنچ کر ہمیں پھر پیچھے کھینچ لیا جائے اور دوزخ کے رستہ پر ڈال دیا جائے۔پس یہ بڑی عبرت کا مقام ہے کہ ایک شخص تمام عمر دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے مگر چونکہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ یا اس کے دین کی محبت نہایت مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے اور اس کا ایمان ایسا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کا عارضی طور پر بھٹکنا ڈور ہو کروہ یک لخت جنت کی طرف چل پڑتا ہے۔مگر ایک انسان ہوتا ہے کہ وہ جنت کے بالکل قریب پہنچ چکا ہوتا ہے۔مگر چونکہ اس کے دل میں کوئی ایسی برائی اور بدی ہوتی ہے جو آخر کار غالب آجاتی ہے اس لئے وہ جنت کی طرف سے کھینچا جاتا اور دوزخ کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔اس قسم کی بہت سی نظیر میں ملتی ہیں کہ بعض انسان جو جنت کے قریب تھے وہ دُور ہو گئے اور جودُ ور تھے وہ قریب ۱۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب وحی مرتد ہو گیا ہے۔اور طلحہ بن خویلد مدعی نبوت مرنے سے کچھ ہی عرصہ پہلے مسلمان ہو گیا۔حالانکہ اس کی نسبت فتویٰ لگ چکا تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔چنانچہ جب وہ ایمان لایا تو صحابہ میں اس کے متعلق اختلاف ہوا کہ اسے قتل کرنا چاہیے یا نہ۔لیکن ایک عجیب طریق سے وہ اس سزا سے بچ گیا۔اور وہ اس طرح کہ ایک صحابی شرجیل بن حسنہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔ایک جنگ میں لڑ رہے تھے۔یوں وہ بڑے بہادر اور دلیر سپاہی تھے۔مگر چونکہ روزے کثرت سے رکھتے تھے۔اس لئے ان کا جسم کمزور تھا۔ان سے ایک عیسائی مقابلہ کر رہا تھا۔جب اس نے دیکھا کہ میں تلوار سے مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔تو اس نے آپ کا گریبان پکڑ کر آپ کو گرا لیا۔اور چھاتی پر بیٹھ کر انہیں قتل کرنے لگا کہ اسی کے لشکر سے ایک شخص نکلا اور اس نے آکر اس کی گردن کاٹ دی۔اور شرجیل کو آزاد کر دیا۔اس وقت اس شخص نے اپنا منہ لپیٹا ہوا تھا۔شرجیل نے پوچھا تم کون ہو۔اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے کے لئے ایسا کیا ہے۔کیونکہ میں ایک سخت گناہ کا مرتکب ہو چکا ہوں۔اسکی سزا میں تخفیف ہونے کے خیال سے میں نے اس عیسائی کو قتل کیا ہے۔اس لئے میں اپنا نام نہیں بتاؤں گا۔لیکن شرجیل نے جب بہت اصرار کیا تو اس نے بتایا کہ میں وہ مدعی نبوت طلحہ بن خویلد ہوں جس کے قتل کرنے کا فتوی مل چکا ہے اور اب میں اس دعوئی سے تو بہ کر چکا ہوں میں چونکہ جانتا ہوں کہ میراجرم بہت بڑا ہے اور اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں ہے۔اور نہ میں مسلمان ہو سکتا ہوں۔اس لئے میں اپنے آپ کو پوشیدہ ہی رکھنا چاہتا ہوں۔اس کی یہ بات سنکر :- بخاری کتاب القدر باب العمل بالخواتیم۔: تفسیر کبیر مصری الجز ء۶ ص ۲۷۶۔