خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 379

خطبات محمود جلد (5) ۳۷۸ آگئیں۔کیونکہ انسان سب اشیاء پر حاکم اور متصرف ہے۔تو جب انسان حاکم ہے اور اس کے لئے خسر ہے تو سب چیزیں ہی گھاٹے میں ہیں۔فرمایا کہ انسان کے گھاٹے کی طرف زمانہ شہادت دیتا ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہر ایک چیز گھاٹے کی طرف جا رہی ہے۔اور انسان کی خواہش یہ ہے کہ وہ ہمیشہ رہے۔پھر اس کے لئے کیا ہو۔یہی کہ انسان کوئی ایسا سہارا تلاش کرے جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہو اور وہ سہارا اللہ تعالیٰ ہے۔پس وہ انسان جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اور اس سے اپنا تعلق جوڑے گا۔وہ ہلاک نہ ہوگا۔اس لئے جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے اور ایک ایسی ہستی پر سہارا کرتے ہیں جس کو ہلاکت نہیں۔جو ہر قسم کی ہلاکتوں اور مصائب سے پاک ہے۔تو وہ بھی ہلاک نہیں ہو سکتے اور ان کے نام نہیں مٹ سکتے۔یہ حقیقی بات ہے کہ جو اعلیٰ چیز سے تعلق رکھتا ہے وہ خود بھی اعلیٰ ہو جاتا ہے۔دیکھ لو ایک بڑے دربار میں بعض بڑے بڑے اہلکار نہیں جاسکتے مگر بادشاہ کا چپراسی جا سکتا ہے۔تو جب کوئی بڑی چیز سے وابستگی حاصل کرتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کی بڑائی بھی ہو۔اور یہ ایک سچی بات ہے کہ خُدا کا ذکر اور اس کا نام مٹ نہیں سکتا۔اس لئے جو شخص خُدا کے ساتھ تعلق پیدا کرے وہ بھی نہیں مٹ سکتا۔یہ ایک علاج ہے اس بات کا کہ ہر ایک چیز کے لئے فنا ہے۔مگر انسان اس سے بچ سکتا ہے کیونکہ اس کا تعلق خُدا سے ہو جاتا ہے۔جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔پس اگر تم ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو اس سے تعلق پیدا کر جس کے لئے ہلاکت نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو خود ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کئے اور دوسروں کو نیک عمل کرنے کی تعلیم دی وہ اس قابل ہو گئے کہ خُدا تعالیٰ ان کو بچائے اور قائم رکھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔جس کے ذریعہ کسی کو ہدایت ہواس کے نام بھی اس شخص کی ہر ایک نیکی کے بدلہ میں نیکی لکھی جائے گی۔اور یہ سلسلہ قیامت تک چلا جاتا ہے۔کیونکہ پھر اس شخص کے ذریعہ جس شخص کو ہدایت ملے گی اس کی نیکی کے بدلہ میں بھی اس کو نیکی کا بدلہ ملے گا۔چنانچہ حضرت صاحب نے کہا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اب جوشان ہے وہ پہلے کی نسبت بڑی ہے کیونکہ نبی کریم صلعم کے ذریعہ جن لوگوں نے ہدایت پائی۔اور پھر ان لوگوں کے ذریعہ جن لوگوں نے ہدایت پائی ضرور ہے کہ ان سب کی نیکیوں کے بدلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نیکی ملے۔اور حضور کے درجات و مراتب میں ترقی ہو۔تو اس وقت سے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔اور اس کے بعد لوگوں نے نیکیاں کیں۔ان کا اجر آنحضرت کو بھی ملا۔تو جو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ہوگا۔وہ ضرور ہے کہ ایک بڑی شان کا ہو۔بعض نادان اس کے کچھ کے کچھ معنے لے اڑے اور کہہ دیا کہ مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے تئیں بڑھاتے ہیں۔لیکن یہ غلط ہے۔آپ کا مطلب یہی تھا کہ