خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 378

خطبات محمود جلد (5) ۳۷۷ لگا کہ میرا مذ ہب ہے اعظم علیہ۔میں سمجھ تو گیا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہنا چاہتا ہے۔مگر پھر میں نے کہا کہ اعظم علیہ تو کوئی مذہب نہیں۔اس نے کہا ٹھہر جاؤ تم تو جلدی کرتے ہو۔میرا مذہب حنیفہ اعظم علیہ اور پھر بڑی مشکل سے کہا اعظم رحمتہ اللہ علیہ اور آخر میں کہا کہ تم جلدی کرتے ہو۔میں اپنے گھر سے تمہیں لکھوا بھیجوں گا۔اب اس شخص کو دیکھو نہ اس میں طاقت اور نہ خرچ مگر مدینہ کی تیاری کر رہا تھا۔میں نے اس کو کہا۔میاں عبد الوہاب مدینہ جانا فرض نہیں تم مت جاؤ۔اس نے کہا کہ نہیں میرے بیٹوں نے کہا تھا کہ مدینہ ضرور جانا۔تو اس قسم کے لوگ بہت ہیں۔جن کو معلوم نہیں کہ ان کا مذہب کیا ہے۔مگر اپنا نام قائم رکھنے کی ان میں خواہش ہوگی۔ایسے لوگ نہ خُدا کو جانتے ہیں نہ خدا کے رسول کو مگر انہیں یہ خواہش ضرور ہے کہ ان کا نام قائم رہے۔پھر لوگ اولاد کی خواہش کرتے ہیں صرف اس لئے کہ ان کا نام نہ مٹ جائے۔مگر باوجود اس بات کے ان کو یقین نہیں کہ اگر ہمارے اولا د ہوئی بھی تو یہ کیا یقینی بات ہے کہ اس اولاد کے اولاد ہوگی۔اور اگر پوتے ہوئے بھی تو یہ کوئی یقین نہیں کہ آگے بھی اولاد ہوگی۔لیکن ان کی یہ خواہش کیوں ہے۔اس لئے کہ نام قائم رہے۔اس لئے کئی کئی شادیاں کراتے ہیں۔پھر اپنا اور بیوی کا علاج کراتے ہیں کہ کسی طرح اولاد ہو تو ہر ایک کے دل میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے۔خواہ وہ بادشاہ ہو۔یا گدڑی پوش فقیر۔فلاسفر اور حکیم ہو یا جاہل مطلق کہ ہمارا نام قائم رہے۔دوسری طرف ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز قائم بالذات نہیں کیونکہ ہر چیز دوسرے کے سہارے قائم ہے اور ہر ایک کو فنا لگی ہوئی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ ایک طرف تو فطرت میں رکھا گیا کہ ہم قائم رہیں اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ فنا اپنا کام کر رہی ہے۔اور زندگیوں کا خاتمہ کر رہی ہے۔اور یہ دونوں باتیں خُدا ہی کی طرف سے ہیں۔یہ خواہش جو ہر ایک انسان کے دل میں رکھی ہوئی ہے جھوٹی تو ہے نہیں۔کیونکہ ہر ایک انسان خواہ وہ کسی طبقہ میں سے ہو اس میں پائی جاتی ہے۔اگر یہ خواہش جھوٹی ہوتی تو اس کا وجودسب انسانوں میں نہ پایا جاتا لیکن اسکاسب انسانوں میں پایا جانا بتلاتا ہے کہ یہ فطرتی بات ہے اور جو فطرت کے تقاضہ سے بات ہو وہ خُدا کی ہی طرف سے ہوا کرتی ہے۔اب ہر ایک چیز فنا ہورہی ہے۔اور کسی کو بقا حاصل نہیں۔اور دوسری طرف انسان کی خواہش ہے کہ وہ زندہ رہے۔لیکن یہ کیسے پوری ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے:۔والعصر ان الانسان لفي خسرة زمانہ کی قسم بیشک انسان کے ساتھ ہلاکت لگی ہوئی ہے۔انسان کہہ دینے سے سب چیزیں اس میں