خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 362

خطبات محمود جلد (5) ۳۶۱ ہمارے خلاف کس قدر کامیاب ہوئی ہیں اور انہوں نے ہماری جماعت کو کیا نقصان پہنچایا ہے۔۱۹۱۴ء کے سالانہ جلسہ پر جو ان لوگوں کے الگ ہونے کے بعد پہلا جلسہ تھا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے بتا دیا تھا کہ اس جلسہ پر پہلے سالوں کی نسبت زیادہ لوگ آئے اور زیادہ کامیاب جلسہ ہوا۔اس کے بعد خواجہ صاحب اپنے ولایت سے آکر تمام ہندوستان کا دورہ کیا۔اور ہمارے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے اور برے خیالات پھیلانے میں جس قدر زور لگا سکتے تھے لگایا۔مگر خُدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۹۱۵ ء کا جلسہ پہلے کی نسبت بھی زیادہ کامیاب ہوا۔اس سال انہوں نے مولوی محمد احسن کو بت بنایا۔اور کوشش کی کہ جماعت کو توڑ دیں۔مگر ۱۹۱۶ ء کا جلسہ خُدا کے فضل سے تمام پہلے جلسوں کی نسبت بہت زیادہ کامیاب ہوا۔اور ہر طرح کامیاب رہا ہے اس میں بہت زیادہ لوگ آئے۔اور ان کے جوش اور اخلاص پہلے کی نسبت بڑھے ہوئے تھے۔ہم میں سے کون انسان ہے جس نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کیا ہو۔مجھے کو تو خُدا نے یہ خلافت کا کام سپر دکیا ہے۔لیکن مجھے تو یہ دعوی نہیں۔پھر اور کون ہے۔جو دعویٰ کرے کہ وہ لوگوں کے دلوں پر قبضہ رکھتا ہے دلوں کو قابو میں رکھنا اور ایک طرف جھکا دینا صرف خُد اتعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے اور کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں۔خدا تعالیٰ ہی ہے جو دلوں کو کھینچ کر لے آتا اور ہم میں شامل کرتا ہے اور وہی ہے جو ہر روز ہمیں ترقی دیتا ہے۔ہمیں ہر ایک قوم سے مقابلہ ہے۔گویا کہ ہم بتیس دانتوں میں ہیں۔ایک طرف مسلمان ہم پر دانت پیس رہے ہیں۔دوسری طرف سکھ اور عیسائی اور ہندوؤں کا ہم سے مقابلہ ہے۔غرض ہر ایک قوم ہم سے مقابلہ کر رہی ہے۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمارے شاملِ حال ہے اس لئے ہم کسی سے دب کر نہیں رہتے۔اس نصرت خداوندی پر جس قدر بھی شکریہ ادا کیا جاوے کم ہے۔شکریہ کے معنے یہ نہیں ہیں کہ اب ہم بیٹھ جائیں۔اور عمل میں کوشش نہ کریں۔بلکہ ہم میں سے ہر ایک کو چاہئیے کہ عمل میں ترقی کرے۔صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور ہم تو عمل میں کوشش اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف ہوں لیکن آپ کے تو خدا نے سب اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں آپ کیوں اس قدر کوشش کرتے ہیں یہ سُن کر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا۔کیا میں تم سے زیادہ اتنی نہیں ہوں ہے۔پھر فرمایا کہ کیا میں عبد شکور نہ بنوں۔میرے لئے عبادت شکر کے طور پر ہے کیونکہ جس پر زیادہ فضل ہو وہ زیادہ مستحق ہے کہ دوسروں سے بہت 1 :- خواجہ کمال الدین صاحب ( ناقل) سے بخاری کتاب الایمان باب قول النبی صلعم انا اعلمكم بالله