خطبات محمود (جلد 5) — Page 334
خطبات محمود جلد (5) ۳۳۴ بندوں کو کمزوروں اور منافقوں سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے اس لئے اپنے کلام میں محکمات اور متشابہات دونوں کو رکھ دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر نبی پر جو اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے اس میں محکمات اور متشابہات ہوتے ہیں۔ایک بڑی وجہ محکمات اور متشابہات کے بیان کرنے کی تو یہی ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جتنی ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن کی تخلیق میں کسی قسم کا انسانی دخل اور تصرف نہیں ہوتا بلکہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایسی بات رکھی گئی ہے کہ ان پر جس قدر غور و خوض کیا جائے ان کے متعلق اسی قدر علم وسیع ہوتا جاتا ہے اور ایسی چیزوں میں خدا تعالیٰ نے ایسے علوم پوشیدہ رکھے ہوتے ہیں کہ جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے بلکہ جب بھی انسان ان پر غور کرے نئے نئے علوم کھلتے رہتے ہیں۔دُور جانے کی ضرورت نہیں انسان اپنے جسم میں ہی دیکھ لے انسانی جسم کی تشریح کو ہی آج تک دنیا مکمل نہیں کر سکی۔اس کی اور خصوصیات کو جانے دو جو انسان کے رُوح ، اخلاق و عادات کے متعلق ہیں پھر یہ کہ علوم کا منبع کیا ہے۔علوم کس جگہ سے پیدا ہوتے ہیں، انسان کے فیلنگ کا کس چیز سے تعلق ہے وغیرہ وغیرہ یہ مختلف شاخیں ہیں ان سب کو چھوڑ کر صرف انسان کی صحت اور بیماری کو ہی لے لو اس کے متعلق ہی دُنیا کسی قطعی فیصلہ پر نہیں پہنچ سکی۔اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ طب یونانی قدیم ہے یاطب ہندی یا یہ کہ دونوں ایک ساتھ شروع ہوئی ہیں یا آگے پیچھے۔اکثروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہندی طب پہلے کی ہے اور طب یونانی بعد کی۔میرے نزدیک بھی یہی بات درست اور صحیح ہے۔اس لحاظ سے تین زمانے ہوتے ہیں۔ایک وہ زمانہ جس میں ہندی طب کا نشو نما ہوا اور اس نے اتنی ترقی اور عروج حاصل کیا کہ اس کے ماہرین کے نزدیک کوئی ایسی بات باقی نہ رہ گئی جو انسانی صحت اور تندرستی کے لئے ضروری تھی لیکن اس کے بعد دوسرا زمانہ وہ شروع ہو اجس میں طب یونانی کا ظہور ہوا اور یہ اتنی بڑھی کہ باوجود اس کے کہ ہندی طب کو ایک علم کہا جاتا تھا اس کے ماہرین نے کہہ دیا کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ جہالت اور نادانی ہے۔اس کے بعد تیسر ازمانہ وہ شروع ہوا جس میں ڈاکٹری شروع ہوئی اور اس نے ایسی ترقی کی کہ آج طب یونانی اور طب ہندی کو اس کے مقابلہ میں بیچ اور ناکارہ قرار دیا جاتا ہے حالانکہ وہ دونوں اپنی اپنی ذات میں ایک ایک علم ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کی بعض باتیں غلط ثابت ہوئی ہیں اور بعض باتوں میں نقص پایا گیا ہے اس لئے وہ قابل التفات نہیں تو یہ بات انگریزی طب میں بھی پائی جاتی ہے اس کی بعض باتیں بھی آئے دن بدلتی رہتی ہیں لیکن کسی علم میں کچھ غلطیاں ثابت ہو جانے کا یہ مطلب نہیں ہوا کرتا کہ و علم ہی نہیں ہے اس طرح کرنے سے تو کوئی علم بھی علم نہیں کہلا سکتا تو یہ تینوں علم ہیں۔یونانی طب سے پہلے ہندی طب بھی ایک علم تھا اور بڑی بڑی کوششوں اور جانفشانیوں سے دریافت کیا گیا تھا لیکن جب یونانی طب ظاہر ہوئی تو اسے جہالت قرار دیا گیا۔اس کے بعد یونانی