خطبات محمود (جلد 5) — Page 326
۳۲۶ 37 خطبات محمود جلد (5) خدائی نعمت کا اظہار کرو (فرموده ۷ ارنومبر ۱۹۱۶ء) حضور نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر فرمایا:۔نیوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان اپنے بندوں پر بے انتہا ہیں۔خود بندہ کی پیدائش ہی خدا کے فضل کے ماتحت ہے۔انسانی اعضاء کو ہی لے لو ہر ایک عضو پر جس قدر غور کریں اسی قدر خدا تعالیٰ کا فضل زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ہر ایک عضو کے فوائد کا تو مر ہی نہیں ہوسکتا۔یہ سب خدا تعالیٰ کے احسان ہیں لیکن ان سب سے بڑا اور زیادہ احسان میرے نزدیک وہ ہے جو روح پر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارا خادم نہیں ، غلام نہیں ، ہماری اطاعت وفرمانبرداری میں اس کا نفع نہیں محض اس کے فضل اور انعام کی بات ہے جو وہ اپنی مخلوق پر کرتا ہے کہ اس کی شریعت کو اُٹھا سکے اور اس کے احکام پر عمل کرے۔اگر کوئی انسان خدا کی بتائی ہوئی شریعت پر عمل نہ کرے تو اُس کی خدائی میں کوئی فرق نہیں آجا تا مگر اس کے فضل اور احسان نے چاہا کہ اپنے انعام کو دنیا میں خاص طور سے انسان پر ظاہر کرے۔پس جس طرح اس کے فضل اور احسان نے اپنے اعلیٰ ظہور کے لئے انسان کو پسند کیا اسی طرح جو انعام انسان کو ملے ہیں وہ اور انعاموں سے بھی بڑے ہیں۔یوں تو اگر ایک چیز بھی اس کے انعام سے خالی رہے تو انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔مثلاً آنکھ ہی جاتی رہے یا کان ہی کٹ جائے یا ناک ہی کٹ جائے یا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں تو انسان میں کس قدر ستم پیدا ہو جاتا اور کیسا برا معلوم ہوتا ہے۔پرانے زمانہ میں کسی کا ناک وغیرہ اعضاء سزا کے طور پر کاٹے جاتے تھے۔غرض ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہ اپنے اندر ایک حُسن رکھتی ہے مگر پھر بھی نسبتیں ہوتی ہیں بلحاظ اِس کے کہ یہ انعامات ایک محدود زندگی کے لئے ہیں مگر اس لا محدود زندگی کے لئے خدا تعالیٰ نے عقل، فہم ،شریعت دی ہے اور پھر وہ ذرائع دئے ہیں جن سے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتا ہے۔یہ انعام بہر حال بہت بڑا انعام ہے۔