خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 325

خطبات محمود جلد (5) ۳۲۵ خرچ کرتے ہیں۔دو پیسے یا تین پیسے فی روپیہ چندہ مانگا جائے تو شور مچا دیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں تم سے انجمن اپنے لئے نہیں کچھ مانگتی بلکہ خدا کے لئے مانگتی ہے اور جو کچھ تم سے لیا جاتا ہے وہ خدا کی راہ میں صرف ہوتا ہے۔پس جس نے تمہیں ایک روپیہ دیا ہے اس کے لئے اس میں سے تین پیسے دینا کہاں کی موت ہے۔ایسا شخص سوچے کہ مجھے سوا پندرہ آنے جو مل گئے ہیں کیا یہ کم ہیں۔وہ اس پر کیوں گھبراتا ہے کہ مجھے تین پیسے دینے پڑے۔اللہ تعالیٰ میں طاقت ہے اور وہ ایسا کر سکتا ہے کہ اُس کی آمدنی کم کر دے اور یہ بھی کر سکتا ہے کہ اپنے دین کے لئے کوئی اور سامان پیدا کر دے۔پھر اپنے ہاتھ سے اُس کی راہ میں کیوں نہ دے دیا جائے۔وہ تو اپنے لئے خود بھی کاٹ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا اُس کا خرچ بہت بڑھ گیا تو اُس نے خرچ کے کم کرنے کے لئے کچھ نو کر موقوف کر دئے۔رات کو اُس نے رویا دیکھی کہ خزانوں کے دروازے کھلے ہیں اور روپوؤں کی گاڑیاں بھر بھر لے جائی جا رہی ہیں۔اُس نے پوچھا تم کون ہو اور کیا کر رہے ہو۔ایک نے کہا کہ ہم فرشتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا ہے کہ ہم پہلے ان لوگوں کو اس شخص کی معرفت دیتے تھے اب اس نے ان کو نکال دیا ہے اس لئے جہاں جہاں وہ جائیں ان کے لئے وہیں پہنچاؤ اس لئے ہم یہ گاڑیاں بھر بھر کر لے جا رہے ہیں۔اُس نے صبح اُٹھ کر تمام ملازمین کو واپس بلا لیا۔تو خدا تعالیٰ اس رنگ میں بھی دلواتا ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کرتے ہیں اُن کی آمدنیوں میں ترقی ہوتی ہے مگر باوجود اس کے ہماری جماعت میں سے ایک حصہ ایسا ہے جو خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرنے سے غفلت کرتا ہے اور غفلت کا بہلی کا نتیجہ ہوتا ہے۔اسی طرح اور بہت سی غفلتیں اور سُستیاں ہیں۔اگر ہماری جماعت ان کو دور نہیں کرے گی تو اس کے لئے خوشی کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اوّل تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس پیشگوئی کے کیا معنے ہیں لیکن اگر وہی معنے ہیں جو ہم نے سمجھے ہیں تو بھی ہماری جماعت کو بہت ڈرنا چاہئیے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت پر اپنا فضل کرے اور اس کی شستی اور غفلت کو دُور کر دے۔کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرما دے۔وہ بہت بڑا بادشاہ ہے۔ہم کمزور ہیں وہ ہماری کمزوریوں کو دُور کر دے۔ہم نا طاقت ہیں وہ ہماری ناطاقتی کا علاج کر دے اور ہمیں اپنے انعامات کے قابل بنادے اور ہمیں کسی سال کا منتظر نہ بنائے کہ ہم دیکھتے رہیں وہ کب آئے گا بلکہ ہمارے اندر ایسا اخلاص اور ایسا تقویٰ پیدا کر دے کہ ہمارے لئے ہر گھڑی اور ہر سال ہی مبارک ہو اور ہمیں کسی خاص سال کے انتظار کی ضرورت نہ رہے۔آمین ختم آمین۔(الفضل ۱۴ /۱۱ نومبر ۱۹۱۶ء)