خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 290

خطبات محمود جلد (5) ۲۹۰ بتائی ہے۔اور یہ بات کونسی مشکل ہے کہ ہر ایک کو اس کے سمجھنے سے دھو کہ لگ سکتا ہے۔آخر ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے اس کو سمجھا ہے یا نہیں پھر اور کوئی کیوں نہیں سمجھ سکتا۔کسی کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھ دیا ہے کہ رسالہ فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں جہاں جہاں میں نے نبی کا لفظ لکھا ہے اسے محدث سمجھ لو اس لئے آپ کو نبی نہیں کہنا چاہئیے یہ بات بھی غلط ہے کیونکہ یہ اس وقت آپ نے لکھا تھا جبکہ آپ اپنے آپ کو نبی نہ سمجھتے تھے اور جب سمجھا تو اس کو منسوخ کر دیا۔پس جب آپ نے اس کو منسوخ کر دیا تو آب اور کس کا حق ہے کہ اس کو منسوخ نہ کرے۔پھر وہی شخص لکھتا ہے کہ احمدی وہ ہوتا ہے جو حضرت صاحب کی کسی تحریر کومنسوخ نہ سمجھتا ہو۔ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود نے ایک وقت حضرت عیسی کو زندہ مانا ہے اس لئے اب ان کو زندہ ہی سمجھنا چاہئیے اور جو ایسا نہیں سمجھتا وہ تمہارے نزدیک احمدی ہی نہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں متعہ کی اجازت دی لیکن بعد میں منع فرما دیا۔اب اس کے خیال میں وہ شخص مسلمان ہی نہیں جو متعہ کو اب ناجائز سمجھے اسی طرح کئی اور احکام کی اجازت تھی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کرنے سے منع نہ فرماتے تھے مگر بعد میں ممانعت ہوگئی۔مثلاً ابتداء میں کئی ایسے مسلمان تھے جنہوں نے اپنی سوتیلی ماؤں سے نکاح کیا ہو اتھا بعد میں آپ نے منع فرما دیا۔پھر گدھے کی حلت تھی ہے اور بعد میں کم آگیا کہ ایسانہ کرو۔اور کئی اس قسم کے احکام ہیں کہ پہلے اس کے متعلق حکم دیا یا جائز سمجھا اور اس سے منع نہ کیا لیکن بعد میں منسوخ کر دیا۔اس سے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمان ہی نہ تھے۔پھر ایک زمانہ ایسا بھی آیا ہے که ۹۹ فیصدی مسلمان قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کو منسوخ سمجھتے تھے۔کیا وہ سب کے سب کا فر تھے لیکن قرآن کریم کی کسی آیت کو ہم اس لئے منسوخ نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کریم اس سے انکار کرتا ہے۔لیکن جس تحریر کو حضرت مسیح موعود نے منسوخ کر دیا ہے اس کو منسوخ نہ کرنا بلکہ قائم رکھنا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔اب کوئی کہے کہ اگر اس طرح تحریریں منسوخ ہونے لگیں تو اندھیر آ جائے گا لیکن ہم کہتے ہیں اندھیر کس طرح آسکتا ہے اندھیر تو تب آئے جب کوئی اپنی عقل اور اپنی رائے سے کسی تحریر کو منسوخ قرار دے لے لیکن جب وہی تحریر منسوخ ہو جس کو لکھنے والا منسوخ کرے تو پھر کوئی حرج نہیں واقعہ ہوتا۔دیکھو گورنمنٹ ایک حکم دیتی ہے اور پھر اس کو منسوخ کر دیتی ہے۔کیا اس طرح اندھیر پڑ جاتا ہے۔نہیں۔ہاں اگر گورنمنٹ کے کسی حکم کو وکلاء منسوخ قرار دیں تو پھر ابتری پڑسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریر کو آپ ہی منسوخ قرار دیا ہے۔اب ہمارے لئے یہی ضروری ہے کہ ہم آپ کی ناسخ تحریر کو مانیں بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر ايضا