خطبات محمود (جلد 5) — Page 289
خطبات محمود جلد (5) ۲۸۹ لگتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ رسول وہ ہوتا ہے جو آسمان پر اڑ جائے۔وہاں سے کوئی کتاب لے آئے وغیرہ وغیرہ۔پھر بھی خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ہی کہا۔ہاں ان کے اس قسم کے غلط خیالات کی تردید کر دی اور رسول کے لئے جو باتیں ضروری تھیں وہ بیان کر دیں۔پھر دیکھو جہاد کا مفہوم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جو کافر ملے اسے قتل کر دو۔اب کیا اس لفظ کو قرآن کریم سے اڑا دینا چاہیئے کہ اس کی وجہ سے کسی کو دھوکہ نہ لگے۔ہرگز نہیں۔پھر قرآن کریم میں ایسی آیات ہیں جن میں کفار سے لڑنے کا حکم ہے اور دوسری جگہ لڑائی کے شرائط بیان کئے گئے ہیں۔اب ان لڑائی کے متعلق آیات کو نکال دینا چاہئیے کہ ان کی وجہ سے غلطی لگ سکتی ہے۔اسی طرح تو کچھ بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ہر ایک آیت سے کسی نہ کسی انسان کو دھو کہ اور غلطی ضرور لگے گی۔اس لئے (نعوذ باللہ ) تمام قرآن کو ہی جلا دینا چاہئیے کسی کے دھوکہ لگنے کے خوف سے اگر کوئی بات ترک کرنی چاہیئے تو پھر کچھ بھی باقی نہ بچے گا۔ہاں اگر یہ ہو کہ کسی لفظ کے لغت ایک معنے کرتی ہو اور خدا تعالیٰ نے بھی اس کے معنے کر دیئے ہوں اور اس کے برخلاف کوئی نئے معنے پیدا کرتا ہو تو اس کو چھوڑ دینا چاہئیے کہ اس سے دھو کہ لگ سکتا ہے۔مثلاً کوئی کہے کہ میں اپنا نام اللہ رکھ لیتا ہوں۔ہم کہیں گے کہ نہ تو لغت میں آدمی کو اللہ کہا گیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ نے کسی انسان کا اللہ نام رکھا ہے اس لئے یہ نام رکھنا چھوڑ دینا چاہیے کہ اس سے دھو کہ لگتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کہے کہ آدمی کے معنے گفتا ہوتے ہیں اس کو بھی ہم یہی جواب دیں گے۔اسی طرح اگر اس زمانہ میں جہالت اور نادانی سے لوگوں نے نبی کی یہ تعریف سمجھ رکھی ہے کہ (۱) نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لاتا ہے (۲) بعض احکام شریعت کو منسوخ کرتا ہے (۳) کسی نبی کا متبع نہیں ہوتا بلکہ براہ راست نبوت پاتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ نبی کی یہ تعریف نہ خدا تعالیٰ نے بیان کی ہے نہ قرآن کریم سے اس کا پتہ لگتا ہے اور نہ ہی لغت نبی کی یہ تعریف کرتی ہے۔پھر ہم کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی کہنا چھوڑ دیں۔اگر نبی کی تعریف خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن کریم کے رُو سے اور لغت میں وہی ہوتی جو لوگ سمجھے ہوئے ہیں تو ہم حضرت مسیح موعود کونبی کہنا چھوڑ دیتے کہ یہ باتیں آپ میں نہیں پائی جاتیں اس لئے لوگوں کو دھو کہ لگ سکتا ہے۔لیکن جب ان کا نبی میں پایا جانانہ خدا تعالیٰ کے نزدیک نہ قرآن کریم کے نزدیک اور نہ لغت کے نزدیک ضروری ہے تو پھر ہم کیوں نہ حضرت مسیح موعود کو نبی کہیں۔بلکہ ہمارے لئے تو ضروری ہے کہ بڑے زور سے آپ کو نبی کہیں کیونکہ لوگوں نے جوغلطی سے نبی کے غلط معنی سمجھ رکھے ہیں اس کی اصلاح ہو جائے نہ یہ کہ ان کے باطل خیال اور نبی کی باطل تعریف کے کرنے کی وجہ سے نبی کا درست اور جائز استعمال بھی اس لئے ترک کر دیں کہ وہ چڑتے ہیں اور انہیں دھو کہ لگتا ہے۔دُنیا میں کونسی بات ہے جس سے کسی کو دھو کہ نہیں لگ سکتا۔ہم دھو کہ لگنے سے احتیاط کریں گے لیکن اسی وقت تک کہ دین کا کوئی پہلو نہ جاتا ہو۔لیکن جب ایک نبی کی ہتک ہوتی ہو اُس وقت ہم اس بات کا ہرگز خیال نہیں کریں گے اس وقت ہم وہی بات کہیں گے جو خدا اور اس کے نبی نے