خطبات محمود (جلد 5) — Page 240
خطبات محمود جلد (5) ۲۴۰ ہے۔اور پھر اپنی تعداد کے لحاظ سے بعض وہ چیزیں جو بظاہر فائدہ رساں معلوم نہیں ہوتیں۔یا جن کی بظاہر کوئی ضرورت دکھائی نہیں دیتی پھر بھی وہ مفید اور ضروری ہوتی ہیں۔گو ہر ایک انسان ان کا محتاج نہیں ہوتا۔ان کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔مثلا موتی۔ہیرے لعل۔جواہر۔یہ ایک توطنتی لحاظ سے بڑے مفید ہوتے ہیں۔دوسرے تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں اور ان کی ضرورت امراء اور دولتمندوں کو پڑتی ہے۔یہ ایک ظاہر بات ہے کہ جس قدر اعلیٰ درجہ کا آرام ہے اتنا ہی کم لوگوں کو میٹر آتا ہے چونکہ ایسی قیمتی چیزوں کی احتیاج بڑے لوگوں کو ہی ہوتی ہے۔اور یہ ان میں اور دوسرے لوگوں میں امتیاز پیدا کرنے والی چیزیں ہوتی ہیں۔اس لئے ان کی بڑی قیمت ہوتی ہے تو یہ باتیں کسی چیز کی قیمت کا فیصلہ کیا کرتی ہیں۔اوّل ضرورت۔دوم - فوائد۔سوم تعداد۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز ضروری ہوتی ہے گو اس کے فوائد عام طور پر کوئی ایسے اعلیٰ نہیں سمجھے جاتے۔مگر ایک وقت میں اس کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فوائد بھی نہیں ہوتے اور ضرورت بھی کوئی ایسی نہیں ہوتی لیکن جس حد تک دنیا میں اس کی ضرورت ہوتی ہے اس سے اس کا خزانہ کم ہو جاتا ہے۔اس وقت بھی اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔مثلا گیہوں۔چنے۔ماش وغیرہ۔یہ ایسی چیزیں ہیں جو بڑی کثرت سے پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے ان کی قیمت ایسی ہوتی ہے کہ ہر ایک خرید سکتا ہے مگر جب ان کی پیدائش میں کمی واقعہ ہو جاتی ہے تو قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔اس وقت کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بھی ویسے ہی گیہوں یا چنے ہیں جیسے پچھلے سال تھے۔پھر ان کی قیمت کیوں بڑھادی گئی ہے۔ہوا میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ایک یہ کہ انسانی صحت کا مدار اسی پر ہے۔دوسرے ہر وقت اس کی ضرورت اور حاجت ہے۔اور ہر انسان کو ہے۔مگر باوجود اس کے کوئی شخص ہوا کے معاملہ میں بخل سے کام نہیں لیتا۔اور نہ ہی اس میں کنجوسی کرتا ہے۔کیا کبھی ایسا ہو ا ہے کہ کوئی کسی کو کہے کہ ہمارے گھر سے نکل جاؤ کیونکہ تمہارے سانس لینے اور سونگھنے سے ہوا خراب ہو رہی ہے۔خواہ کوئی کیسا ہی بخیل ہو۔اپنے نفس پر کتناہی بخل کرنے والا ہو۔پھر بھی یہ کبھی نہیں کہے گا کیوں؟ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ