خطبات محمود (جلد 5) — Page 239
۲۳۹ 28 خطبات محمود جلد (5) جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دوسروں کو دو۔(فرموده یکم ستمبر ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل سورۃ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔إنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (الكوثر ) بخل اور کنجوسی اسی وقت انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے جبکہ اس کا ہاتھ تنگ ہو یا اسے اس بات کا خطرہ ہو کہ میرا ہاتھ تنگ ہو جائے گا اس کے سوا بخل نہیں پیدا ہوتا۔لوگ اس ہوا سے جو تمام انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ نے بنائی ہے سانس لیتے ہیں اور سانس لے کر اس پاک اور طیب ہوا کو جسے خدا تعالیٰ نے انسانی زندگی کے قیام اور طاقت دینے کا باعث بنایا ہے خراب اور گندہ کر کے اپنے منہ سے نکال دیتے ہیں۔کوئی دنیا کی غذا اور کوئی کھانے پینے کی شے یا کوئی ایسی بیرونی چیز جونفس انسانی کے لئے آرام دینے والی ہے ایسی قیمتی نہیں جیسی کہ ہوا ہے۔کیونکہ ہر چیز کے بغیر انسان کچھ مدت تک گزارا کر سکتا ہے۔اگر کپڑے نہیں تو چھپ کر کہیں بیٹھ سکتا ہے اور ایک دو دن کے لئے بلکہ دو تین چار مہینے تک بیٹھا رہ سکتا ہے زندگی کو اس سے کوئی حرج نہیں ہوگا۔اسی طرح پانی کے بغیر تین چار دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور کھانے کے بغیر چار پانچ چھ سات دن تک لیکن ہوا کے بغیر ایک گھنٹہ چھوڑ ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔غرض دنیا میں جتنی چیزیں انسان کو راحت اور آرام پہنچانے والی اور اس کی زندگی کو قائم رکھنے والی ہیں ان سے سے قیمتی اور مفید اور ضروری ہوا ہی ہے۔کسی چیز کی قیمت اس کے فائدے سے اور ضرورت کے لحاظ سے ہوتی