خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 213

خطبات محمود جلد (5) ۲۱۳ پیچھے باندھا ہوا ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس کے کرنے سے رُکے کیونکہ اگر پھر بھی کسی کے دل پر غفلت اور ہاتھ پاؤں میں سستی ہو۔تو ضرور ہے کہ اس کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے ورنہ اپنے نفع کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان پیچھے نہیں بنتا اور پھر جب حاجتمند بھی ہو تو پورا پورا زور لگاتا ہے۔مگر جب با وجود حاجتمند ہونے کے سامانوں کے مہیا ہونے اور طریق کے آنے کے سستی کرتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کے قلب پر زنگ لگ گیا ہے۔اور جس شخص یا جس جماعت کے اعمال میں کسی بات کے متعلق یہ نمونہ نظر آئے اس شخص یا ان لوگوں کو چاہئیے کہ اپنے اعمال پر غور کریں اور سوچیں کہ کوئی کل خراب ہے تب ہی مشکلات کے دور ہونے کے لئے دعا کرنے اور اس چیز کے حاصل کرنے میں سستی ہو رہی ہے جس کا حاصل کرنالازمی اور ضروری ہے۔میں نے پچھلے چند خطبوں میں دعا کی ضرورت۔اس کے مانگنے کی ترکیب۔اور اس کے قبول ہونے کے ذرائع بیان کئے تھے جس سے ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ دعا کے بغیر گزارہ نہیں ہے کیونکہ یہی ایک ایسی چیز ہے جو تمام مشکلات اور تمام مصائب سے بچا سکتی ہے۔پھر یہ ایسی چیز ہے کہ اس کی ترکیب استعمال نہایت آسان ہے۔ہر ایک چیز کے حاصل کرنے کے لئے انسان کو کچھ نہ کچھ حرکت کرنی پڑتی ہے۔لیکن دعا کے لئے کوئی حرکت نہیں کرنی پڑتی اگر کسی انسان کے ہاتھ پاؤں میں کیل گاڑ دی جائیں اس کی گردن میں موٹے رسے باندھ دیئے جائیں۔اور اس کے تمام جسم پر کوئی ایسا اثر کر دیا جائے کہ اس کا چمڑا خفیف سے خفیف حرکت بھی نہ کر سکے۔تو کیا وہ دعا کرنے سے روک دیا جا سکتا ہے۔ہر گز نہیں۔ایسی حالت میں بھی وہ دعا کر سکتا ہے تو جب دعا ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے حصول کے ایسے طریق ہیں جو قرآن کریم اور حدیث میں نہایت واضح طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں۔اور اس کی حاجت بھی بہت سخت ہے۔پھر بھی اگر کوئی اس کے متعلق سستی کرتا ہے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل اور قلب پر اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے زنگ لگ گیا ہے اور اس کے گزشتہ گناہ اس کے لئے روک کا موجب بن گئے ہیں۔اور اس چیز کے حصول میں مانع ہو گئے ہیں کہ جس کے بغیر اُسے کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی۔