خطبات محمود (جلد 5) — Page 212
٢١٢ 26 خطبات محمود جلد (5) دُعاؤں کی طرف توجہ کرو (فرموده ۱ ار اگست ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ پڑھ کر فرمایا:- کسی کے کام کے کرنے سے جو انسان اعراض کرتا ہے یا کوئی ایسی چیز جس کے حصول کے لئے کوشش نہیں کرتا وہ وہی ہوتی ہے جس کے حاصل کرنے میں کوئی فائدہ اور کوئی نفع نہیں دیکھتا یا جس کے حاصل کرنے کے سامان مہیا نہیں ہوتے یا جس کے حاصل کرنے کا اسے طریق معلوم نہیں ہوتا۔اگر کسی کام کے کرنے یا کسی چیز کے حاصل کرنے میں اسے کوئی فائدہ نظر آتا ہو۔اس کی ضرورت محسوس کرتا ہو۔پھر اس کام کے کرنے یا اس چیز کے حاصل کرنے کا طریق بھی اسے معلوم ہو پھر اس کام کے کرنے یا اس چیز کے حاصل کرنے کے ذرائع بھی مہنتا ہوں تو کبھی بھی کوئی انسان اس کام کے کرنے یا اس چیز کے حاصل کرنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کرتا۔سوائے اس کے جس کو بد قسمتی پیچھے کی طرف پھینک دے یا جس کی عقل میں فتور آ گیا ہو۔یا جو بے سمجھی اور نادانی سے سستی کر بیٹھے۔یا جس کے دل پر غفلت غالب ہو اور گناہوں اور بدا فعالیوں کی وجہ سے قلب پر زنگ لگ گیا ہو۔ورنہ ان تینوں باتوں کے مہیا ہونے کے بعد کوئی انسان کوشش اور ہمت کرنے سے نہیں رُکا کرتا۔یعنی اول جب کوئی کام یا کوئی چیز سے ایسی معلوم ہو جس کے حاصل کرنے کی اسے ضرورت ہو اور وہ اس کا محتاج بھی ہو۔دوم۔اس کام کے کرنے یا اس چیز کے حاصل کرنے کی اُسے ترکیب بھی آتی ہو۔سوم۔اس کے حصول کے سب ذرائع بھی مہیا ہوں تو کبھی کوئی عقلمند انسان سعی کرنے سے نہیں رکتا۔لیکن اگر کوئی باوجود ان باتوں کی موجودگی کے کسی کام کے کرنے یا کسی چیز کے حاصل کرنے سے غافل رہے تو ضرور ہے کہ اس کے دل پر زنگ لگ چکا ہے اور بد اعمالیوں کی زنجیر نے اُسے