خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 181

خطبات محمود جلد (5) ۱۸۱ تمہاری دُعا قبول کروں گا۔بلکہ لفظ ہی ایسا رکھا ہے جو شریعت پر عمل کرنا بھی ظاہر کر دیتا ہے۔اور رسم کے طور پر عمل کرنے کا رڈ بھی کر دیتا ہے۔یعنی استجابت۔اس کے معنے ہیں کہ ایک طرف سے آواز آئے اور دوسرا اس کو قبول کر کے اس پر عمل کرے۔نہ یہ کہ کسی کے اپنے نفس میں رحم اور سخاوت ہے تو وہ بھی اس کا مصداق ہو سکے اور نہ ہی رسمی یا عادت کے طور پر کوئی کام کرنا اس میں داخل ہوسکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میری آواز سُنے اور اس پر عمل کرے اس کی دعا قبول ہوگی۔اس طرح ایک ناقص ایمان والا شخص جو رسمی طور پر شریعت کے احکام پر عمل کرتا ہے۔یا ایک دہر یہ جو یونہی لوگوں کے ڈر سے نماز پڑھ لیتا ہے۔داخل نہیں ہو سکتا۔پھر سوال ہوتا ہے کہ وَلْيُؤْمِنُوا پی کے فرمانے کا کیا مطلب ہوا۔جب پہلے سے ہی یہ شرط موجود ہے کہ دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جبکہ استجابت ہو۔اور استجابت اس وقت ہوتی ہے جبکہ ایمان باللہ ہو تو پھر ایمان لانے کے کیا معنے۔استجابت جب ایمان لانے کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔تو پہلے ایمان ہونا چاہیئے۔اور بعد میں استجابت نہ کہ پہلے استجابت اور بعد میں ایمان۔اس صورت میں ایک ظاہر بین کو اختلاف نظر آتا ہے لیکن یہ بات غلط ہے۔یہاں خدا تعالیٰ پر ایمان لانے سے اس کی شریعت پر ایمان لانا مراد نہیں ہے بلکہ دعا کے قبول ہونے کا ایک اور گر بتایا ہے جس کے نہ سمجھنے سے بہت سے لوگوں نے ٹھو کر کھائی ہے اور ان کی دعائیں رڈ کی گئی ہیں وہ گر یہ ہے کہ انسان شریعت کے تمام احکام پر عمل کرے اور دعائیں مانگے مگر ساتھ ہی اس بات پر ایمان بھی رکھے کہ خدا تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شریعت کے احکام پر بڑی پابندی سے عمل کرتے ہیں۔ان کے دلوں میں خشیت اللہ بھی ہوتی ہے۔بڑے خشوع و خضوع سے دعائیں بھی کرتے ہیں مگر پھر یہ کہتے ہیں کہ فلاں اتنا بڑا کام ہے اس کے متعلق دُعا کہاں سُنی جاسکتی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ ہم گنہ گار ہیں ہماری دُعا خدا کہاں سنتا ہے اس قسم کا کوئی نہ کوئی خیال شیطان ان کے دل میں ڈال دیتا ہے جس سے ان کی دعا میں قبولیت نہیں رہتی۔اس نقص بچنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اس بات پر بھی ایمان رکھو کہ جب تم ہمارے احکام پر اچھی طرح