خطبات محمود (جلد 5) — Page 177
خطبات محمود جلد (5) 122 نہیں چاہتا کہ وہ کوئی ہتھیار چلائے اور وہ نہ چلے بلکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ میں جہاں بھی چلاؤں وہیں چلے۔اسی طرح انسان پر ایک ایسا وقت آتا ہے جبکہ وہ خدا کے ہاتھ میں بطور ہتھیار کے ہو جاتا ہے۔وہ نہیں کھاتا۔جب تک کہ خدا اسے نہیں کھلاتا۔وہ نہیں پیتا۔جب تک کہ خدا اسے نہیں پلاتا۔وہ نہیں سنتا جب تک کہ خدا اسے نہیں سنا تا۔وہ نہیں جاگتا جب تک کہ خدا اسے نہیں جگا تا۔وہ نہیں سوتا جب تک کہ خدا اسے نہیں سُلا تا۔غرضیکہ اس کی ہر حرکت اور ہرسکون اللہ تعالیٰ کے لئے اور اسی کے اختیار میں ہوتی ہے۔ایسا انسان جو دعا کرتا ہے وہ قبول ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس کی نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اس کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔اس لئے کرتا ہے اور اس کی دعا کا قبول کر لینا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں ہے کیونکہ جو دعا مانگی جاتی ہے۔وہ در اصل خدا ہی نے منگوائی ہوتی ہے۔پس چونکہ مانگنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے اور دینے والا بھی اللہ ہی۔اس لئے وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے اور ممکن نہیں کہ قبول نہ ہو مثال کے طور پر دیکھئے۔جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کام کرنے والوں کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ماتحت اپنی ضروریات کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مثلاً فرض کرو ایک ڈپٹی کمشنر تحصیل میں آیا۔اور تحصیلدار نے اپنی ضروریات اس کے سامنے پیش کیں کہ فلاں چیز کی ضرورت ہے فلاں سامان خریدنا ہے۔فلاں کام کروانا ہے وغیرہ وغیرہ۔وہ اس میں سے کچھ مان لے گا اور کچھ رڈ کر دے گا لیکن کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خود کوئی ضرورت دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ چیز بھی ہونی چاہئیے اس کے لئے تحصیلدار کو کہتا ہے کہ اس چیز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے رپورٹ کر دو۔وہ رپورٹ کر دیتا ہے اب یہ کبھی نہ ہوگا کہ ڈپٹی کمشنر اس رپورٹ کو رڈ کر دے یا نا منظور کر دے کیونکہ اس کے متعلق وہ خود کہہ گیا تھا کہ کرو۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی زبان پر خود دعا جاری کرتا ہے۔پس جب خود کرتا ہے تو پھر اسے رد نہیں کرتا۔یہ اس بندے کے قرب اور درجہ کے اظہار کے لئے ہوتا ہے اور اگر وہ کوئی اور دعا کرنے لگے تو خدا تعالیٰ اس کے دل اور دماغ پر ایسا تصرف کر لیتا ہے کہ اس کے منہ سے وہ کلمات ہی نہیں نکلتے۔جوہ نکالنا چاہتا تھا بلکہ ایسے کلمات نکلتے