خطبات محمود (جلد 5) — Page 8
Λ 2 خطبات محمود جلد (5) صفات الہیہ کو نہ سمجھنے سے تمام خرابیاں پیدا ہوتی ہیں فرموده - ۱۴/جنوری ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِى أَخْدَانٍ ، وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ (المائده :) اس آیت کریمہ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے اسلام کے سوا باقی جس قدر مذاہب ہیں ان کے دوحصے کئے گئے ہیں۔اور ان میں سے ایک کا نام اہل کتاب“ رکھا ہے اور دوسرے کا جیسا کہ دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے مشرک نام یعنی جو کسی آسمانی کتاب کو مانتے ہیں انہیں اہلِ کتاب کہا گیا ہے اور جو کسی کتاب کو نہیں مانتے انہیں مشرکین قرار دیا گیا ہے۔اور ان دونوں کے ساتھ معاملہ اور برتاؤ کرنے میں فرق رکھا ہے۔بعض لوگوں کو اس فرق سے یہ دھو کہ لگا ہے کہ چونکہ قرآن شریف میں بار بار اہلِ کتاب کے نام سے ایک گروہ کو پکارا گیا ہے اس لئے انہیں قرآن شریف نے کافر قرار نہیں دیا۔حالانکہ قرآن شریف کی ان آخری سورتوں سے ہی جن کو لوگ نماز میں پڑھنے کے لئے یاد کرتے ہیں اہل کتاب کا کا فر ہونا ثابت ہوتا ہے سورہ بینہ شروع ہی اس طرح سے ہوتی ہے کہ لَم يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ البَيِّنَةُ - تو اہلِ کتاب کو بھی کفر کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے کہ میرے سامنے ایک غیر احمدی کا سوال پیش کیا گیا کہ قرآن شریف تو اہل کتاب کو بھی کا فرنہیں کہتا مگر تم لوگ ہم کو کافر کہتے ہو حالانکہ ہم تمہارے بہت قریب ہیں ایک مسیحی جو اہلِ کتاب ہے