خطبات محمود (جلد 5) — Page 7
خطبات محمود جلد (5) کہ اب جو تم یہ کہتے ہو پہلے اس کے ساتھ کیوں شامل ہوتے تھے۔ایسی باتوں پر بولنے کی مجھے تو عادت نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ تو عام طور پر کہہ دیا کرتے تھے۔لیکن میں انتظار کرتا ہوں۔اور کرنے والے کو کسی رنگ میں سمجھا دیتا ہوں پھر انتظار کرتا ہوں شاید بعض لوگ یہ جانتے ہوں کہ مجھے ان کے حالات کا پتہ نہیں لیکن خدا کے فضل سے مجھے ان کی نسبت اتنا پتہ ہوتا ہے اگر انہیں اس کا پتہ ہو جائے تو حیران ہو جا ئیں۔بہت لوگ ہیں جن کی عادتیں جتنی مجھے معلوم ہیں۔اتنی انہیں خود بھی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے معاملات میں خاموش رہا کرتے تھے یہی بات مجھے پسند آئی ہے۔اس لئے میں اسی کی پیروی کرتا ہوں۔پس تم لوگوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ خود اسراف سے بچو اور دوسروں کو بچاؤ حضرت خلیفتہ امی ہمیشہ فرماتے تھے کہ ایسی چیزیں جن کا انسان محتاج نہیں مثلاً مٹھائی وغیرہ کسی کو قرض نہیں دینی چاہیئے۔لیکن اب تک بعض لوگوں کو نصیحت نہیں حاصل ہوئی اب میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہے جو مصیبت میں ہے تو اُسے قرض بے شک دو۔یہ اچھا کام ہے مثلاً کوئی آٹے والا ہے یہ کسی غریب اور مفلس کو آٹا قرض دیتا ہے تو وہ قابل تعریف ہے کیونکہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کپڑے والا کسی ایسے آدمی کو کپڑا قرض دیتا ہے جو کمانے والا ہے تو وہ قابل شکریہ ہے اس کا قرضہ اگر وہ ادا نہ کر سکے تو دوسروں کا فرض ہے کہ اس کی جگہ ادا کر دیں اسی طرح اگر کوئی اور ضروری چیز قرض دیتا ہے تو اچھا کرتا ہے۔لیکن ایسی اشیاء جیسے مٹھائی اور دودھ ہے قرض دینا دوسرے کو اسراف کی عادت ڈالنا ہے۔ایسا مت کرو کیونکہ اس کا نتیجہ بھی اچھا نہیں نکلتا اور وہ جو اسراف کرا تا اور دوسرے پر بوجھ لا دتا ہے وہ بھی اچھا نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو اسراف اور بخل دونوں سے بچائے اور ان کے درمیانی راستہ پر چلنے کی توفیق دے۔امِيْن يَارَبَّ الْعَلَمِينَ (الفضل ۲ فروری ۱۹۱۶ء)