خطبات محمود (جلد 5) — Page 156
خطبات محمود جلد (5) ۱۵۶ کامیاب ہو سکتے ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے بھی قریب ہوں، اور تمہارے مدعا اور مقصد کے بھی قریب ہوں۔جیسے تار برقی ہے ایک جگہ ٹک ٹک ہوتی ہے تو سینکڑوں میلوں پر فوراً خبر پہنچ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں تو تار کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔لیکن اس سے میں نے یہ بتایا ہے کہ یہ تار کا قرب جب اس قدر مفید اور فائدہ رساں ہے تو خدا تعالیٰ جس کا قرب اس سے بہت ہی زیادہ ہے وہ کس قدر مفید ہوگا اس کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔وہ ادھر سنتا اور ادھر قبول کر لیتا ہے خواہ کتنے ہی فاصلے پر وہ مدعا ہو۔غرض ایسا آسان اور سہل اور کوئی کامیابی کا طریق نہیں ہے۔اس لئے ہماری تمام جماعت کو چاہئیے کہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے بال بچوں مال اور اموال خویش و اقارب کو چھوڑ کر ایسے کام کی خاطر دور دراز ملکوں میں گئے ہوئے ہیں جس کا کرنا ہمارا بھی فرض ہے اور پھر ایسے لوگوں میں گئے ہیں جن کے اخلاص اور عادات سے واقف نہیں۔ان مشکلات کے ہوتے ہوئے وہ کام کر رہے ہیں بہت دعائیں کی جائیں۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت میں اس بات کے احساس کو پیدا کرے تا علاوہ اور رنگ کی مدد کرنے کے دعا سے بھی ان کی مدد کریں۔جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے ملک سے بے ملک اپنے وطن سے بے وطن ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی زبانوں میں برکت دے۔دلوں میں ایمان مضبوط کرے اور اعمال میں تقویٰ اور سداد پیدا کرے۔ان کی باتیں سننے والے ان سے مسرور ہوں اور انہیں عظمت کی نگاہ سے دیکھیں دشمن کی نظروں میں وہ ذلیل نہ ہوں اور ان کی نظر میں کوئی بڑے سے بڑا دشمن ایسا نہ آئے جس سے وہ مرعوب ہو جائیں آمین۔(الفضل ۸ جولائی ۱۹۱۶ء)