خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 155

خطبات محمود جلد (5) ۱۵۵ بلکہ جس مدعا اور مقصد کو حاصل کرنا ہو اس کے بھی قریب ہوں۔ادھر انسان یہ کہتا ہے کہ الہی ! مجھے فلاں چیز مل جائے۔وہ چیز لاکھوں کروڑوں میل کے فاصلہ پر ہو خدا تعالیٰ اس پر اسی وقت قبضہ کر لیتا ہے کہ یہ ہمارے فلاں بندے کے لئے ہے۔کیونکہ جس طرح خدا اس بندے کے قریب ہے اسی طرح اس چیز کے بھی قریب ہے تو کامیابی کے لئے یہ ذریعہ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مفید ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان (البقرة: ۱۸۷) میں تمہارے قریب ہوں۔اور بہت جلد حاصل ہو جانے والا ہوں۔دوسرے ذرائع کے لئے تمہیں بہت کچھ کرنا پڑے گا۔اور پھر بھی یقینی بات نہیں کہ ان سے تم کامیاب ہوجاؤ لیکن میرے حاصل کرنے کے لئے صرف تو جہ اور اخلاص کی ضرورت ہے۔جب کوئی میرا بندہ اس طریق سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کر لیتا ہوں۔قبول کرنے کے دوطریق ہیں۔ایک یہ کہ بات مان لی۔مثلاً یہ کہ ہم نے دعا کی کہ اے خدا فلاں کی مدد کر۔اس کو خدا نے سن لیا نہ یہ کہ اس کی مدد بھی کر دی۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار کو قبول کرتا ہوں یعنی ادھر عرض سنتا ہوں اُدھر اسے پورا کر دیتا ہوں۔فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔پس چاہیئے کہ وہ میرے احکام کو مانیں اور میری آواز کوئنیں کیونکہ جب میں ہی ایک ایسا ذریعہ ہوں تو مجھ پر ہی ایمان لائیں تا کہ اپنے مدعا میں کامیاب ہوں۔کامیابی حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہی سب سے بڑا گر بتایا ہے اس لئے ہماری جماعت کو چاہیے کہ کثرت سے دعاؤں کے ساتھ ان مبلغوں کی امداد کرے۔جو ہمارے لئے اس قدر مصائب اٹھا رہے ہیں۔لیکن اس لحاظ سے کہ ہمارے فرض کو وہ ادا کر رہے ہیں ہمارے لئے ہی تکالیف برداشت کر رہے ہیں وہ اپنے بیوی بچوں سے۔مال و جائداد سے۔ملک و وطن سے دور بیٹھے ہیں۔مگر تم قریب ہو وہ سب دنیاوی تعلقات کو خدا کے لئے توڑ کر تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں۔مگر تمہارے سارے تعلقات وابستہ ہیں۔نہ ہیں۔تمھیں سمجھنا چاہیئے کہ جس طرح انہوں نے تمہارے لئے قربانی کی ہے اسی طرح ان کا بھی حق ہے کہ تم ان کے لئے قربانی کرو۔پس تم لوگ جہاں اور طریق سے ان کی مدد کرو۔وہاں دعاؤں سے بھی ضرور ان کی تائید کرو اور یقین رکھو کہ یہی ایک ذریعہ ایسا ہے جس سے تم جلد سے جلد