خطبات محمود (جلد 5) — Page 151
خطبات محمود جلد (5) ۱۵۱ نہیں ہو ا کرتا۔جود ثمن کے پاس زیادہ ہوں۔مثلاً ایک قوم جس کے پاس کروڑ روپیہ ہے وہ کہے کہ ہم اپنے دشمن پر جس کے پاس تیس کروڑ روپیہ ہے مالی رنگ میں فتح حاصل کر لیں گے تو یہ بالکل غلط بات ہے۔کیونکہ پیشتر اس کے کہ اس کے دشمن کا روپیہ ختم ہو اس کا اپنا ختم ہو جائے گا اس لئے اس کے لئے کامیابی حاصل کرنے کے لئے یہ ذریعہ نہیں ہو سکتا۔اس موجودہ جنگ میں متحدہ سلطنتوں کے مد تبر اس بات پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں کہ جرمن پر جلد فتح پانے کا کونسا ذریعہ ہوسکتا ہے اس کے لئے وہ ہر ایک قسم کے سامانوں کو دیکھتے ہیں اور پھر اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ کونسی چیز جرمن کے پاس کم ہے تا اس کے ذریعہ اس پر فتح حاصل کی جائے تو کسی دشمن پر فتح پانے کے لئے وہ ذریعہ نہایت کارآمد مفید اور جلد فیصلہ کرنے والا ہوتا ہے جو دشمن کے پاس نہ ہو یا کم ہو۔پس اس وقت ہمارے پاس دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہمارے مخالفین کے پاس نہیں ہے اس لئے اس کے ذریعہ ہم ان پر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں نہایت لطیف پیرایہ میں خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دُعا ان سب ذرائع سے جن سے کامیابی حاصل ہوا کرتی ہے بڑھ کر ہے۔اس آیت میں ایک لفظ خدا تعالیٰ نے ایسا رکھا ہے جس نے دعا کی ایسی تشریح کر دی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اور کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَلَى فَإِنِّي قريب۔اے رسول ! ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) جب تجھ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو کہہ دے میں قریب ہوں۔یہ آیت سورۃ بقرہ میں آئی ہے اور وہ مدنی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کا وہ وقت تھا کہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ کے متعلق سوال کر سکتے تھے۔حالانکہ سورہ ق میں جو کہ مکی ہے خدا تعالیٰ فرما چکا ہے وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيد۔اس آیت میں قریب نہیں بلکہ اقرب کا لفظ موجود ہے۔پس جب کہ متی سورۃ میں خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو اقرب فرما دیا ہے تو پھر مدنی میں یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی کہ جب میرے بندے میرے متعلق تجھ سے سوال کریں تو یہ جواب دو کہ میں قریب ہوں کیونکہ جب مکی آیت کے ذریعہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ خدا تعالیٰ بہت ہی قریب ہے تو پھر یہ سوال