خطبات محمود (جلد 5) — Page 150
خطبات محمود جلد (5) ۱۵۰ کہ ہر رنگ اور ہر ذریعہ سے جو خدا دے مبلغین کی مدد کریں۔کیونکہ ان کو مدد دینا ان کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے ہے اور اپنے بھی جسم کے لئے نہیں بلکہ روح کے لئے جو جسم سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔مبلغین کو مدد دینے کے ذرائع تو بہت سے ہیں۔مثلاً مال سے مدد کرنا ایک ذریعہ ہے ان کو مفید اور فائدہ مند نصائح کرنا دوسرا ذریعہ ہے ان کے تبلیغی کام کے متعلق مفید مشورے دینا تیسر ا ذریعہ ہے۔ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے ایسے مضامین لکھنا جو اپنے اندر روحانیت رکھتے اور اسلام کی صداقت پر دال ہوں چوتھا ذریعہ ہے۔پھر کثرت سے ٹریکٹ چھپوا کر ان کے پاس بھیجا کہ وہ تقسیم کرسکیں پانچواں ذریعہ ہے۔غرض ان کی مدد کرنے کے بہت سے ذرائع ہیں لیکن ان سب سے زیادہ زور دار اور مفید و با برکت ذریعہ جو ہے وہ دُعا کا ذریعہ ہے اس ذریعہ سے جس قدر مدد کی جاسکتی ہے اور کسی طریق سے نہیں ہوسکتی۔لاکھوں لاکھ ٹریکٹ چھپوا کر ان کو بھیجے جائیں۔کروڑوں کروڑ روپیہ ان کے لئے صرف کیا جائے بے انتہا مفید سے مفید مشورے اور اعلیٰ سے اعلیٰ نصیحتیں انہیں کی جائیں۔ان کے دل کو مطمئن اور بافراغت رکھنے کے لئے ان کے بال بچوں کی خبر گیری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا جائے مگر ان سب سے بڑھ کر دُعا مدد دے سکتی ہے کیونکہ یہ سب ذرائع ہوتے ہوئے انسان نا کام ہو جاتا ہے مگر دعا کی مددجس کے ساتھ ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔دنیا میں دوسری قومیں مال کے لحاظ سے ہم سے بہت زیادہ دولت مند ہیں مگر باوجود اس کے وہ مذاہب کے میدان میں ہمارے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔اگر عوام کی نگاہ میں ان کی کچھ کامیابی ہے تو یہ کوئی کامیابی نہیں کیونکہ ان کے ذمہ دار اور حقیقت شناس لوگ اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ہمارا قدم پیچھے پڑ رہا ہے نہ کہ آگے۔اسی طرح مشورہ دینے اور مفید باتیں بتانے والے بھی غیر اقوام میں بڑے بڑے عالی دماغ ہیں۔مبلغین کے آرام و آسائش کا خیال رکھنے والے بھی وہ ہم سے زیادہ ہیں ٹریکٹ بھی لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں شائع کرتے ہیں۔غرض یہ سب اشیاء دیگر اقوام کے پاس ہم سے بہت زیادہ ہیں۔اگر کچھ نہیں ہے تو دعا کا ہتھیار نہیں ہے۔اور مقابلہ کے وقت ہمیشہ انہی سامانوں اور ذرائع سے کامیابی ہوا کرتی ہے جو دشمن کے پاس کم ہوں یا بالکل نہ ہوں۔ان سامانوں کے ذریعہ غلبہ