خطبات محمود (جلد 5) — Page 127
خطبات محمود جلد (5) ۱۲۷ معمولی معلوم ہوتی تھی۔لیکن در حقیقت وہ بہت بڑی اور خطرناک نتائج پید اکرنے والی تھی۔تو چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی بہت احتیاط کرنی چاہئیے۔اور فوراً کسی پر جھوٹے ہونے کا فتویٰ نہیں لگا دینا چاہئیے۔تم لوگ کیوں ایسا طریق اختیار نہیں کرتے جس میں تمہارا بھی فائدہ ہو اور کسی کو نقصان بھی نہ پہنچے اور وہ یہ کہ جس طرح خود بھول جاتے اور نسیان کر بیٹھتے ہو۔اسی طرح دوسرے کو سمجھ لیا کرو اور اس طرح بھی کسی کا حق غصب نہیں ہو سکتا۔بات وہی رہتی ہے البتہ احتیاط کا پہلو ہو جاتا ہے۔پس یہ بات خوب یاد رکھو کہ جو بات کسی کے متعلق کہو اپنے نفس میں اس کے متعلق خوب غور کر لو کہ جو الزام دوسرے پر لگا تا ہوں کیا میں اس سے بری ہوں۔افسوس کہ بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں اگر غور کریں تو بہت سے فساد اور جھگڑے دور ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی سمجھ دے اور دوسروں کی عیب جوئی سے بچا کر اپنے نفس کے محاسبہ کی توفیق بخشے۔(الفضل ۱۸ جون ۱۹۱۶ء)