خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 126

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۶ حافظہ کے تیز ہونے کی یہی وجہ ہے کہ چونکہ وہ آنکھوں کی بجائے کانوں کو زیادہ استعمال کرتے ہیں اس لئے شنوائی کا اثر ان کے دماغ پر بہت گہرا پڑتا ہے اسی طرح ایک بہرہ آنکھوں دیکھی چیز کو بہ نسبت سُنی ہوئی کے زیادہ یادرکھتا ہے کیونکہ وہ زیادہ غور سے دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔اور کانوں کا کام بھی آنکھوں سے ہی لیتا ہے۔اکثر اشیاء کے یادرکھنے کے متعلق انسان دو چیزوں سے کام لیتا ہے۔اول آنکھوں سے دیکھتا ہے۔دوم کانوں سے سنتا ہے۔مثلاً ایک شخص کا نام عمر الدین ہے وہ جب سامنے آئے تو کان اس کا نام سنکر کہتے ہیں کہ یہ عمرالدین ہے۔اور آنکھیں اس کی شکل کا نقشہ اتارتی ہیں۔اگر یہی شخص ایک پردہ کے پیچھے کھڑا ہوکر اپنا نام بتائے تو ممکن ہے کہ وہ شخص اس کو نہ پہچان سکے جس کے کانوں نے اس کی آواز کو نا اور جس کی آنکھوں نے اس کا نقشہ اتارا۔لیکن ایک نابینا انسان جس نے صرف کانوں کے ذریعہ اس کو پہچانا تھا اس کی آواز سنکر فوراً معلوم کر لے گا۔کیوں؟ اس لئے کہ جس وقت اس نے نام سنا تھا۔تو بہ نسبت ایک بینا شخص کے اس کی قوت سامع نے اس کے دماغ پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا۔پس ان حواس کے ذریعہ حافظہ بعض باتوں کو بھول جاتا ہے اور بعض کو یا درکھتا ہے۔لیکن بھولنے والے کی نسبت یہ کہنا کہ جھوٹ بولتا ہے سوائے اس کے اور کیا نتیجہ پیدا کر سکتا ہے کہ فساد پھیلے۔مگر بہت لوگ ایسے ہیں۔جو کسی جھگڑے یا اختلاف کے وقت ایک دوسرے کی نسبت کہہ دیتے ہیں۔میں ایک دفعہ ایک جماعت کے ہاں گیا اب تو وہ بہت مخلص ہے اس کے قریباً سارے ممبر ایسے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے ہیں۔مگر تعمیل احکام میں سب سے زیادہ ست۔وہاں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگوں میں نا اتفاقی ہے۔میں نے ان کو بلا کر پوچھا۔ہر ایک نے یہی کہا کہ ہم میں کوئی ناراضگی نہیں ہے۔یہ بات آپ تک غلط پہنچائی گئی ہے۔میں نے پوچھا فلاں آدمی کیوں مسجد میں نہیں آتا۔فلاں کیوں نہیں آتا۔اس کا جواب مجھے یہ دیا گیا کہ فلاں کی فلاں سے اور فلاں کی فلاں سے لڑائی ہوئی ہے میں نے کہا کہ جب ایک دوسرے کی آپس میں لڑائی ہے تو پھر اتفاق کیسا ؟ اور جماعت کیسی ؟ اس قسم کی نا اتفاقی کو انہوں نے افراد کی نا اتفاقی قرار دیا ہو ا تھا نہ کہ جماعت کی۔میں نے ان میں صفائی کرا دی انہیں یہ بات بہت