خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 66

خطبات محمود جلد ۴ ۶۶ (۱۷) نبی کا انکار خدا کا ہی انکار ہے (فرموده ۱۰۔اپریل ۱۹۱۴ ء ) سال ۱۹۱۴ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی :۔كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُميْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوْهُنَّ سَبْعَ سمُوتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اور پھر فرمایا:۔پیچھے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم مسایل پیہم کے مخالفین پر حجت قائم کی ہے اور بتلایا ہے کہ کیوں نبی کے آنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ کے کلام کے بغیر نجات نہیں مل سکتی۔پھر کلام الہی کے مخالفین کی نسبت بتلایا ہے کہ وہ دکھ کے عذاب میں ڈالے جائیں گے اور تم دیکھ لو گے کہ وہ کس طرح تباہ و برباد ہوتے ہیں اور کلام الہی کو ماننے والے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کریں گے اور وہ مظفر ومنصور ہوں گے اور وہ فتوحات حاصل کریں گے۔پھر ایک بات ہوتی ہے جو صرف عقل ہی عقل ہوتی ہے اور ایک واقعہ ہوتا ہے پھر فرمایا کہ یہ بات صرف عقلا ہی نہیں بلکہ واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔پھر بتلایا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں فرمایا کہ جب کوئی نشان می آتا ہے تو مومن فور اسمجھ جاتے ہیں اور مان لیتے ہیں لیکن شریر اور بد بخت انسان ہمیشہ اعتراض ہی کرتے ر جاتے ہیں۔كُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمُ اب یہاں ایک اور بات بتلائی کہ ایسا اس زمانے میں