خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 65

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء کرتا رہا۔اور جب بادشاہ آگے چلا گیا تو قاضی صاحب نے آہستہ سے اس کو کہا۔کہ کیوں میاں ! کل جو تم روپے کا ذکر کرتے تھے وہ کون سا روپیہ تھا۔اس نے پھر وہی نشان بتلا دیئے جو اس نے پہلے بتلائے تھے تو قاضی نے اس کا روپیہ اس کو دے دیا۔اور کہا کہ تم نے پہلے ہی یہ باتیں کیوں مجھ کو نہ بتلائیں۔غرض اسی طرح انسان کا تعلق اگر مالک سے ہو جاوے تو مملوک اسے کچھ دکھ یا تکلیف نہیں دے سکتے۔تمام پھر خدمت گار بن جاتے ہیں اس لئے تم بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھو تا کہ تم کو کوئی دکھ نہ دے اور کوئی چیز تمہیں تکلیف نہ دے سکے گی۔ل البقرة : ۲۶ تا ۳۰ تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحه ۹۹ مطبع نولکشور لکھنو ۱۳۲۳ھ الفضل ۸۔اپریل ۱۹۱۴ء )