خطبات محمود (جلد 4) — Page 46
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء میں اس شخص کو اس آیت کی طرف ہی متوجہ کرتا ہوں۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔فرمایا کہ جب میرے بندے مصیبتوں میں گھر جائیں اور ان کو کوئی یارو مددگار نہ ملے اور وہ پکار اٹھیں کہ اب ہمارا کوئی نہیں رہا اور وہ مصیبتوں سے گھبرا جائیں اور ان کی ہمت کی کمریں ٹوٹ جائیں اور ان کی امید قطع ہو جائے اور ہر طرف سے پاس ہی پاس ہو اور غم ہی غم نظر آوے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے میری طرف توجہ کریں اور مجھے پکاریں میں ان کی دعاسنوں گا اور اسے قبول کروں گا۔وہ میرے حضور جھک جائیں اور میرے آگے آکر گریں تو وہ دیکھ لیں گے کہ انسان سے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر زیادہ اور کوئی قریب نہیں ہے ہے۔بظاہر لوگ ظاہری اسباب کی طرف دوڑتے ہیں لیکن حقیقتا ایک ہی ہستی ہے جو انسان کو چھڑا سکتی ہے۔انسان اگر خدا کے حضور گر جاوے اور اس سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ تمام مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔میں بھی اور تمام دوست بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کی مشکلات کو حل کر دے۔اس وقت ایک اور معاملہ بھی ہمارے سامنے ہے اور وہ حضرت خلیفتہ المسیح کی بیماری ہے اس کیلئے تمام لوگوں کو چاہیئے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عنایت فرمادے اور اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر ایک فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔صرف ایک نفس کو ھدایت دے لینا ایک لاکھ آدمی کو مرتد کر دینے سے مشکل ہے۔ایک عظیم الشان اور ایک اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی عمارت کو سالہا سال میں تیار اور مکمل کر سکتے ہیں لیکن اس عمارت کو تباہ و برباد کرنے کے لئے صرف پندرہ منٹ ہی کافی ہو سکتے ہیں۔اس نے کو تیار کرنے کیلئے تو کیسی کیسی مشکلات کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور کیسے کیسے اس کیلئے مسالے لائے جاتے ہیں لیکن اس کو گرانے کیلئے اور خراب کرنے کیلئے صرف تھوڑا سا ڈائنامیٹ ہی کافی ہوتا ہے۔اس عمارت کو تیار کرنا معمولی آدمی کا کام نہیں ہوتا۔بڑے بڑے اس علم کے ماہروں کی کئی مدت کی دماغ سوزی اور محنت کے بعد جا کر اس کا نقشہ تیار ہوتا ہے اور پھر کئی ماہروں کی محنت سے وہ عمارت تیار ہوتی ہے لیکن اس کو تباہ کرنے کے لئے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی کافی ہوتا ہے اور ایک اگھڑ سے اگھر، آدمی بھی اسے گرا سکتا ہے۔پس تو ڑنا آسان اور جوڑ نا مشکل ہے، بنا نا مشکل۔