خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 449

خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۹ سال ۱۹۱۵ جگہ ہیں کہ ان سے زبانی طور پر لوگ باتیں سن کر صحیح نتیجہ نکال سکتے اس لئے ان کی جماعت میں صرف کتابوں کے ذریعہ لوگ شامل ہو رہے ہیں۔لیکن جب ہمارے زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ ہم میں آپ رہے ہیں تو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ نبوت کا مسئلہ ذریعہ ہے ہماری ترقی کا اور باوجود ہر جگہ پر نبوت مسیح موعود " کا اقرار نہ کرنے والے لوگوں کے موجود ہونے کے لوگ ہمارے سلسلہ کو قبول کرتے ہیں۔مجھے سے ایک شخص نے مسئلہ نبوت کے متعلق پوچھا ہے اور لکھا ہے کہ خواجہ صاحب نے لَمْ يَبْقَ مِن النبوة إلا المبشرات آے کو لے کر حضرت مسیح موعود کی نبوت پر جو اعتراض کئے ہیں ان کا جواب دیا جائے خواجہ صاحب نے لکھا ہے کہ لَم يَبْقَ مِنَ النَّبوَةِ إِلَّا الْمُبَيِّرَاتِ اس کے لفظی معنوں پر غور کرو۔جو یہ ہیں کہ آنحضرت سالی ایم کے بعد مبشرات کے سوا باقی کوئی چیز نبوت کی نہیں رہی۔یعنی نبوت میں مبشرات کے علاوہ دیگر امور بھی داخل ہیں۔نبوت کے ایک سے زیادہ اجزاء ہوتے ہیں اور ان میں ایک جزو مبشرات ہے۔نبی وہ ہوتا ہے جس میں مبشرات بھی ہوں اور دیگر اجزائے نبوت بھی جو بالفاظ آنحضرت سلی یا تم آپ کے بعد باقی نہیں رہے۔پھر ان کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر مبشرات کوئی نبوت ہے تو اس حدیث کو اس طرح پڑھنا چاہیے کہ لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّبُوَّةِ إِلَّا عَيْن النبوة نبوت سے کچھ باقی نہیں رہا مگر عین نبوت لیکن یہ ایک بیہودہ فقرہ بن جاتا ہے اس لئے اس حدیث کے یہی معنے ہیں کہ نبوت سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر مبشرات۔ایک اور شخص نے بتایا ہے کہ خواجہ صاحب نے وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشّرِينَ وَمُنْذِرِين ه پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس آیت سے میاں صاحب یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ مرزا صاحب مبشر تھے اس لئے وہ رسول بھی ہیں حالانکہ اس کا عکس لینا جائز نہیں کیونکہ ہر ایک قضیئے کا عکس درست نہیں ہوتا۔سنا ہے کہ خواجہ صاحب نے اپنی علمیت کے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ میاں صاحب نے اپنی تصنیفوں میں علمی غلطیاں کی ہیں۔چونکہ خواجہ صاحب سے میں واقف ہوں اس لئے خوب جانتا ہوں کہ انہیں کتنا علم ہے اور کتنا فلسفہ اور منطق جانتے ہیں۔خیر منطق اور فلسفہ نہیں جانتے تو نہ سہی لیکن کسی کی عربی دانی پر کس منہ سے اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ خواجہ صاحب علم عربی سے ایسے ہی دور ہیں جیسا کہ گدھے کے سر سے سینگ۔علم عربی کا جاننا تو الگ رہا خواجہ صاحب تو قرآن بھی نہیں جانتے۔اگر جانتے ہیں تو ہم