خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 448

خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۸ سال ۱۹۱۵ کر رہے ہیں اور تم زیادہ ہو اس لئے زیادہ بڑھ رہے ہو۔مگر یہ بھی خیال غلط ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو غلط ثابت کرنے کیلئے یہ بات رکھ دی ہے کہ بعض ایسے علاقے ہیں جن میں مبائعین ہیں ہی نہیں اور اگر ہیں تو ایسے کہ آٹے میں نمک کے برابر لیکن وہاں بھی ہمیں ہی ترقی ہو رہی ہے۔ہم مان لیتے ہیں کہ ان کے آدمی تھوڑے اور ہمارے زیادہ ہیں تو بھی ہماری ترقی زیادہ آدمیوں کی وجہ سے نہیں ہے اور نہ ہی نبوت مسیح موعود کا مسئلہ کوئی روک ہے۔وہ علاقے جن میں ہمارے آدمی کم اور ان کے زیادہ ہیں وہاں بھی ان کے حق میں کوئی نتیجہ مترتب نہیں ہوا۔سارے ہزارے میں ہمارے پندرہ بیس آدمی ہوں گے۔مگر ان کے بہت سے ہیں۔ایبٹ آباد میں وہ خود ڈیرے لگائے بیٹھے ہیں لیکن جس دن سے اختلاف ہوا ہے اس نے علاقہ سے بھی دو تین ہماری بیعت میں داخل ہو چکے ہیں مگر اس نسبت سے انہیں وہاں بھی کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔بے شک جہاں ہماری جماعت زیادہ ہے وہاں کے متعلق یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ہمارے مبلغ بہت ہیں اس لئے ہماری جماعت زیادہ پھیل رہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان علاقوں پر غور کرو جہاں تم زیادہ ہو، وہاں کون ترقی کر رہا ہے۔یہ تو میں نے مبلغین کے زیادہ ہونے کے اعتراض کو تسلیم کر کے کہا ہے ورنہ کیا یہ ماننے کی بات ہے کہ ایک شخص ہے جو ایک بیج بورہا ہے اور مناسب موقع پر بورہا ہے لیکن ایک اور ہے جو بہت سے بیج بو رہا ہے مگر بے موقع تو کیا اس کا ایک پیج زیادہ پھل لائے گا جو موقع مناسب پر بونے والا ہے یا اس کا جو بے موقع بہت سے بیج بو رہا ہے۔بے شک اس کا ایک دانہ پھل لے آئے گا اور دوسرے کے ہزاروں دانے بے فائدہ ثابت ہوں گے۔ہمارے مبلغوں کا کثرت سے ہونا اور اس وجہ سے زیادہ پھیلنا ہماری صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ورنہ پھڑی آواز میں جتنی زیادہ نکلیں اتنا ہی زیادہ ان سے لوگوں کو دور بھاگنا چاہیئے۔جہاں ایک بدصورت ہو وہاں تو کوئی ایک طرف منہ کر کے بیٹھ سکتا ہے لیکن اگر بہت بد صورت آنکھیں نکالے ڈرا رہے ہوں تو وہاں سے بھاگنا ہی پڑے گا۔پس اگر ہم ایسے ہی ہیں تو چاہئیے تھا کہ جس قدر ہم زیادہ تھے لوگ اسی قدر اور زیادہ ہم سے نفرت کرتے۔ہمارے مبلغوں کا کم ہونا تو ہماری ترقی کا ذریعہ ہو سکتا تھا کیونکہ کوئی کہہ سکتا تھا کہ بیعت کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ ان کے کیا عقائد ہیں اور نہ ان کے مبلغ ہر