خطبات محمود (جلد 4) — Page 416
خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۶ سال ۱۹۱۵ء کہ حضرت مسیح موعود کے پاس بعض لوگ آ کر کہتے کہ ہمارے لئے آپ یہ دعا کریں۔دوسرے تیسرے دن جب دیکھتے کہ ابھی کچھ نتیجہ نہیں نکلا تو کہہ دیتے کہ اگر آپ سچے ہوتے تو آپ کی دعا کیوں نہ قبول ہوتی۔اسی بات پر وہ ٹھوکر کھا جاتے تھے تو دعا کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ غلط ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی اور یہ بھی غلط ہے کہ جو دعا بھی کی جائے قبول ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی روحانی سنتیں جسمانی سنتوں کے مطابق چلتی ہیں۔تم خدا کی جسمانی سنت کو دیکھ لو۔مثلاً ایک انسان ایک محنت کرتا ہے یعنی زراعت ہے کرتا ہے اور یہ کام جسم سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح دعا بھی ایک کام ہے جو روحانی اخلاص سے تعلق رکھتا ہے ہے۔زراعت میں انسان بیچ ڈالتا ہے تو بھی بہت اعلی فصل ہوتی ہے لیکن کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ باوجود بیچ ڈالنے کے کچھ پیدا نہیں ہوتا، پھر کبھی کھیتی کوکم پانی ملتا ہے تو خشک ہو جاتی ہے اور کبھی زیادہ ملتا ہے تو گل جاتی ہے، کبھی بیج ناقص ہوتا ہے تو کبھی بے موسم بویا جاتا ہے اور کبھی ایک دفعہ بونے کے بعد گھبرا کر دوبارہ بیج ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح پہلے پیج کو بھی خراب کر دیا جاتا ہے اور بعد کا ڈالا ہوا بھی کام نہیں دیتا کبھی فصل کو کیر الگ جاتا ہے، کبھی چوہے خراب کر دیتے ہیں۔غرضیکہ بیسیوں اسباب ہیں جن سے کھیتی خراب ہو کر محنت کرنے والے کو محروم کر دیتی ہے۔اسی طرح دعا کا حال ہے۔جب انسان دعا شروع کرتا ہے تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ دعا ناقص ہونے کی وجہ سے قبولیت کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتی جس طرح ناقص بیج ہوتا ہے۔کبھی ایسی دعا کی جاتی ہے جو سنت اللہ میں نہیں ہوتی کہ انسان کو مل سکے۔پھر کبھی دعا کرنے میں گستاخی کے کلمات نکل جاتے ہیں ایسی دعا بھی رد ہو جاتی ہے۔کبھی کمال گھبراہٹ ظاہر کرنے سے انسان مشرک بن جاتا ہے اور اللہ کی محبت کی بجائے اس چیز کی محبت اس پر غالب آ جاتی ہے۔کبھی بے توجہی سے دعا کی جاتی ہے۔یہ باتیں دعا کی قبولیت میں مانع ہیں۔ان کے علاوہ روحانی اسباب بھی ہوتے ہیں جب تک وہ مہیا نہ ہوں کا میابی نہیں ہوتی اس لئے مومن کو دعاؤں کے ساتھ ان سامانوں کی بھی احتیاط کرنی چاہئیے کیونکہ اگر کوئی دعا کرتا ہے اور دعا کے سامان مہیا نہیں کرتا اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ میری دعا قبول ہو جائے گی تو وہ فضول امید رکھتا ہے۔ہر چیز کیلئے خدا تعالیٰ نے سنتیں اور ہر چیز کیلئے راستے مقرر کئے ہوئے ہیں۔اگر کوئی ان سنتوں کے ماتحت کام نہیں کرتا اور ان سنتوں پر نہیں چلتا تو کبھی کامیاب نہیں