خطبات محمود (جلد 4) — Page 412
خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۲ سال ۱۹۱۹ بعض حالات ایسے پیش آئے کہ آپ نے اس حکم کی تاویل کی کہ سخت ضرورت کی صورت اس سے ہے۔پس آپ کسی مجبوری کی وجہ سے چلے گئے جب واپس آئے تو سخت بیمار ہو گئے احباب علاج کرنے لگے تو فرمایا کہ یہ جو کچھ ہے مجھے معلوم ہے۔حضرت صاحب کے حکم کے خلاف کرنے کی سزا ہے حضور سے دعا کرائی جائے۔چنانچہ دعا کرائی گئی اور خدا تعالیٰ نے شفا دے دی۔تو مسیح موعود کا یہ حکم الہام کے ذریعہ نہ تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ نبی کے حکم کی ذرا بھی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے ، جھٹ مؤاخذہ کیا۔اور اس فوری گرفت کا سبب بھی حضرت مولوی صاحب کے تقوی وخشیت کا مقام تھا تا کہ آپ فوری اصلاح فرمالیں۔اور حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِين مشهور قول ہے۔غرض مولوی صاحب نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کیا آپ کو خدا نے یہ حکم وحی کے ذریعہ بتایا ہے اور نہ مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا۔پس یہ کہنے والا دیکھے کہ اس کی روحانیت اسی درجہ کی ہے جیسے نور الدین کی تھی یا نہیں۔اگر نہیں تو سمجھ لے کہ اسے نفس نے دھوکا دیا ہے۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو نبی کے تمام حکم سمجھنے کی توفیق دے۔ایسے آدمی جو اس قسم کے خیالات رکھتے ہیں کبھی ایمانی اور روحانی ترقی نہیں کر سکتے بلکہ تباہ ہو جاتے ہیں۔پس تم ایسے عقیدہ سے ڈرو جو اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔اور انسان بودا ہو کر تباہ ہو جاتا ہے۔(الفضل ۵ اگست ۱۹۱۵ء) ل النساء : ۶۵ ۶۶ ۶۶۶۵ مریم : ۸ الحاقة: ۴۵ تا ۴۸ النور : ۵۶ بخاری کتاب الجهاد و السير باب يقاتل من وراء الامام ويتقی به الاعراف: ۹۰ ک بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم