خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 405

خطبات محمود جلد ۴ ۴۰۵ سال ۱۹۱۵ قسم کے لوگوں سے زیادہ ضرر رساں ہوتے ہیں کیونکہ پہلی قسم کے لوگ صرف اپنے نفس کیلئے ہلاکت اور تباہی کا ہی باعث نہیں ہوتے ہیں بلکہ بہتوں کیلئے ہدایت کا موجب بھی ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ:۔من نه کردم شما حذر بکنید یعنی میں نے تو اپنی جان کو تباہ کر لیا ہے اور کوئی احتیاط نہیں کی مگر تم میری حالت کو دیکھ کر اپنا بچاؤ کا سامان کر لو۔تو ایسے لوگ گو اپنے نفس کو تباہ کر لیتے ہیں مگر دوسروں کیلئے عبرت اور نصیحت کا موجب بن جاتے ہیں۔لیکن وہ جو بدی کو بدی سمجھ کر کرتے ہیں اور پھر اس پر اصرار کرتے ہیں کہ ہم نے یہ بدی نہیں کی بلکہ نیکی کی ہے ایسے لوگ خدا کے حضور بڑی پکڑ کے قابل ہوتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں بلکہ اور وں کو بھی اپنے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں اور ان کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔یہ جو میں نے آیتیں پڑھی ہیں ان میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے جو بدی کو بدی سمجھ کر کرتے ہیں اور پچھتاتے نہیں بلکہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا ہے۔اگر ہم نے ایک ایسی بات نہیں مانی جو رسول کا اپنا خیال تھا تو کیا ہوا ، کوئی خدا کا حکم تو نہیں تھا جس کا ہم نے انکار کیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللہ۔ہم نے کوئی رسول ایسا نہیں بھیجا مگر ای لئے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ایک احکام ایسے ہوتے ہیں جو قانون کے رنگ میں ہوتے ہیں جنہیں حکومت نافذ کرتی ہے اور چھاپ کر شائع کر دیتی ہے ان کی پابندی کرنے سے سکھ اور ان کو توڑنے سے دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے۔لیکن ایک احکام ذمہ دار حکام کی طرف سے ہوتے ہیں مثلاً ضرورت کے وقت ڈپٹی کمشنر کی طرف سے یا لیفٹینٹ گورنر کی طرف سے جاری ہوتے ہیں۔جو کوئی ان کا انکار کرتا ہے وہ سزا بھی پاتا ہے کیونکہ یہ حاکم مقررہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ اپنے احکام جاری کریں۔چونکہ حکومت نے ان کے فیصلہ کو اپنا فیصلہ اور ان کے حکم کو اپنا حکم اور ان کی اتباع کو اپنی اتباع قرار دیا ہے اس لئے ان کے حکم بھی ہر ایک کیلئے قابل قبول ہوتے ہیں اور جو ان کی تابعداری نہیں کرتا وہ سزا پاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب رسولوں کے بھیجنے کی غرض بھی یہی ہے اور یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ ہم نے کوئی رسول بھیجا ہی نہیں مگر اس لئے کہ اس کی اطاعت کی جائے تو پھر وہ جو بھی حکم دے اسے ماننا ہوگا اور یہ مت خیال کرو