خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 32

خطبات محمود جلد ۴ ۳۲ سال ۱۹۱۴ ء افکار سے کام نہ لیں اور اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ایسے لوگوں کے دلوں پر مہبر ہو جاتی ہے اور وہ کچھ سمجھ نہیں سکتے۔اور جس طرح ظاہری اعضاء کو کام میں نہ لایا جائے تو وہ بے کار ہو جاتے ہیں ایسے ہی ان کی دل کی آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں اور ان کے دل کی بینائی ماری جاتی ہے اور بالکل ضائع ہو جاتی ہے اور ان کے کانوں میں بوجھ پڑ جاتے ہیں وہ کچھ نہیں سُن سکتے۔اور ان کو سزا دی جاتی ہے اور انہیں سخت عذاب ہوگا۔اور جو ایمان لے آتا ہے اور ماننے اور ہدایت کو قبول کرنے کیلئے تیار رہتا ہے اُسے تو اور زیادہ انعام ملتے ہیں اور وہ کامیاب و مظفر و منصور ہوتا ہے۔اور جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا قدری کرتا ہے اور وہ کفر کرتا ہے تو اس سے وہ نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور اسے عذاب ملتا ہے۔ایسے منکر جو بغض سے کام نہ لیں ان کیلئے تو ہدایت کے رستے کھلے ہوتے ہیں۔یہ تو منکرین قرآن کیلئے ہے جو شخص کہ قرآن کریم کی ایک آیت کا بھی انکار کرتا ہے تو جس طرح اگر کوئی ایک عضو کو کام میں نہ لائے تو نامی کارہ ہو جاتا ہے ایسے ہی وہ ایک آیت کا انکار کرنے والا بھی تمہیں چاہیئے کہ اس کی قدر کرو۔قرآن کریم کو پڑھو اور اس پر غور وفکر کرو۔اگر کوئی ایک آیت کا بھی انکار کرتا ہے تو اس کے دل کی بینائی ماری جاتی ہے۔مومن کو ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئیے اور کوشش کرنی چاہیئے کہ انکار کی حالت دور ہو اور ہر عضو سے مناسب کام لینا چاہئیے۔ایسانہ ہو کہ کہیں ناکارہ ہو جا ئیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے۔الفضل ۱۱۔فروری ۱۹۱۴ء) الاعراف: ۱۳ سنن الدار قطني الجزء الثانی صفحہ ۶۵ مطبوعہ قاهره ۱۹۶۶ء ابراهیم : ۸