خطبات محمود (جلد 4) — Page 31
خطبات محمود جلد ۴ ۳۱ سال ۱۹۱۴ء ہو کر اس کو انعام دے اور آگے اس کی بے قدری ہو تو اس سے انعام لے لیتا ہے اور پھر اس کو انعام نہیں دیتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لَا زِيدَ نَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لشديد ۳۔تم اگر میری نعمتوں کی قدر کرو گے تو میں تم پر انعام زیادہ کروں گا۔یہاں تا کید فرمائی ہے کہ میں ضرور تمہاری نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔یہ فطرت انسانیہ سمجھائی ہے۔ہر ایک انسان اپنے نفس میں سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ کسی پر انعام کرے اور وہ آگے سے انعام کی بے قدری کرے تو پھر انسان اس پر کبھی انعام نہ کرے گا اور اسے کچھ نہ دے گا۔اگر انسان کسی کو کپڑا دے اور وہ وہیں اس کے سامنے چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے یا کھانے کی چیز دے اور وہ کتے کے آگے پھینک دے۔یا دودھ دیا اور اس نے یے پھینک دیا اور انعام کی بے قدری کی تو پھر اسے انعام دینے کو جی نہیں چاہتا اور انسان پھر دوبارہ اس پر انعام نہیں کرے گا۔انسان تو اگر انعام کی بے قدری ہوتے دیکھے تو جس پر انعام کرے اس سے سب انعام چھین لیتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے انعاموں کی بے قدری کرے تو اللہ تعالیٰ چونکہ رب العالمین ہے ہمارے تو حو صلے پست ہوتے ہیں اس لئے سب انعام اس سے چھین لیتے ہیں) اللہ تعالیٰ جس نعمت کی ناقدری دیکھے وہی اس سے چھینتا ہے اور صرف اس کی سزا دیتا ہے جس کا خلاف ہو۔انعامات دو قسم کے ہوتے ہیں جسمانی اور روحانی۔جسمانی انعامات میں سے آنکھ کو لے لو۔جو نص کہ آنکھ سے کام نہ لے اور اسے استعمال میں نہ لائے تو آنکھ نا کارہ ہو جاتی ہے اور تباہ ہو جاتی۔ہے کی پھر وہ کبھی کام نہیں دے سکتی۔بعض ہندو لوگ ہاتھوں کو سکھا دیتے ان سے کام نہیں لیتے اور ان کو یونہی کھڑار کھتے ہیں تو وہ ہاتھ سوکھ کر سکتے ہو جاتے ہیں۔غرض انسان جس عضو سے کام لیوے وہ ترقی کرتا ہے اور جسے بیکار چھوڑ دے وہ نکتا ہو جاتا ہے۔جس طرح انسان کے ظاہری اعضاء کے ساتھ معاملہ ہے ایسے ہی روحانی اعضاء کا معاملہ ہے۔ہر ایک عضو کے دو کام ہوتے ہیں روحانی اور جسمانی۔اگر کوئی آدمی عقل سے کام نہ لے تو اس کی عقل ماری جاتی ہے اور جو حافظہ سے کام نہ لے اس کا حافظہ نکما ہو جاتا ہے۔ایسے ہی جو شخص دانائی سے کام نہ لے تو اس کا بھی یہی حال ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کو نہ پڑھے اور اگر وہ قرآن کریم کی ایک آیت کو بھی غور سے نہ دیکھے اور اسے سمجھنے کی کوشش نہ کرے تو وہ روحانی معاملات کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ایسے لوگ جو قرآن کریم کے سمجھنے میں اپنے