خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 274

خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۴ (۵۸) اللہ تعالیٰ نے جلد حق آشکارا کر دیا (فرموده ۱۹۔فروری ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی:۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ فرما یا: دنیا میں کسی شخص کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کی بہت بڑی وجہ احسان ہوتی ہے۔ایک شخص دوسرے کی بعض حاجتوں کو پورا کرتا ہے، اس کی بعض تکلیفوں کو دور کرتا ہے ، اس کی بعض مصیبتوں میں اس کے کام آتا ہے اور اس کے بعض دکھوں کو اس سے ہٹاتا ہے، اس کے بدلہ میں وہ شخص اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتا ہے۔دیکھو فوج کا ایک سپاہی پندرہ روپیہ لے کر گورنمنٹ کیلئے اپنی جان دینے کیلئے تیار ہوتا ہے اس لئے کہ اس کو کھانے پینے پہنے وغیرہ کاموں کیلئے روپیہ کی ضرورت تھی جس کو گورنمنٹ پورا کرتی رہتی ہے اس لئے وہ بھی گورنمنٹ کیلئے فرمانبرداری کرنے کو تیار ہوتا ہے غرضیکہ جو ہستی کسی دوسرے کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اس کیلئے فطرت کے مطابق اور ان قواعد اور قوانین کے مطابق جو کسی انسان کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے جاری کردہ ہیں انسان مطیع اور فرمانبردار ہو جاتا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أجِيبُ دَعْوَةَ النَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ که تم لوگ ہمیشہ جو ایسا کرتے ہو کہ جو تمہاری ضروریات کو پورا کرتا ہے تم اس کی فرمانبرداری