خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 252

خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۲ سال ۱۹۱۴ء قادیان میں آج کل ولایت کی ڈاک آتی ہے ) جلسہ کے ایام میں بھی آتا ہے خدا تعالیٰ اسی میں کوئی صورت نکالے گا لیکن پیشتر اس کے کہ منگلوار آئے آج چودھری فتح محمد صاحب کا تار آیا ہے کہ Corio became Ahmadi muslim یعنی مسٹر کور یو احمدی مسلمان ہوئے ہیں تو خدا تعالیٰ نے میری اس دعا کو قبول کیا۔اگر ساری دنیا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ مانے تو ہمیں کیا پرواہ ہے کیونکہ ہمارے پاس حق ہے۔اگر دنیا اس کو قبول کرے گی تو اس کا بھلا ہوگا اور اگر قبول نہیں کرے گی تو تباہ برباد ہوگی ، ہمیں اس کے نہ قبول کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہے۔کیا دنیا کے تمام لوگوں کے قرآن شریف کو قبول نہ کرنے سے اس کی قدر و منزلت کم ہو سکتی ہے، ہر گز نہیں۔قرآن اپنے اندر حق رکھتا ہے، اسلام اپنے اندر صداقت اور خوبی رکھتا ہے اگر ساری دنیا اس کی تعریف کرنے لگے جائے تو اس میں کچھ بڑھ نہیں جاتا اور اگر ساری دنیا اس کو چھوڑ دے تو اس میں سے کچھ گھٹ نہیں جاتا۔لیکن ہماری ترقی کی کوششوں میں یہ ایک روک تھی کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا نام لے کر ولایت میں تبلیغ کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ بھی مٹ گئی۔اس کے بعد میں اس آیت کے متعلق جو میں نے پہلے پڑھی ہے بیان کرتا ہوں۔میری تقریر اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ، زندگی رہی اور ہر طرح کے سامان خدا تعالیٰ نے مہیا کئے تو ۷ ۲۸،۲ تاریخ کو ہوگی۔میری طبیعت بیمار ہے دیکھئے اس وقت بھی کھانسی ہورہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دنوں مجھے ریزش ہو گئی چونکہ جلسہ قریب ہی آنے والا تھا اس لئے میں نے درس بند کر دیا تا کہ حلق صاف ہو جائے مگر شاید اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی۔درس ہوتا رہتا تو وہ آپ ہی کوئی انتظام حلق کے صاف ہونے کیلئے کر دیتا۔لیکن ایسی قدرت الہی ہوئی کہ درس بند کئے ابھی دو دن ہی ہوئے تھے کہ دو عیسائی ہے یہاں آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اسلام کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہیں اور بڑا وقت اس کام کیلئے آپ سے لیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہی تھی تین دن ان سے گفتگو ہوتی رہی اس کی وجہ سے کھانسی ہوگئی۔یہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ ۲۷، ۲۸ کو مجھے تقریر کرنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔اللہ خوب جانتا ہے مگر آج ایک اور ضروری بات ہے وہ بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے:۔دنیا میں انسان جو کام کرنے لگتا ہے اس قسم کی دوسری مثالوں کو دیکھ کر ان سے نتائج اخذ کر لیتا ہے۔مثلانی کمیٹی بنانے والے دوسری کمیٹیوں کے قواعد اور ضوابط منگوا کر دیکھتے ہیں