خطبات محمود (جلد 4) — Page 196
خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۶ سال ۱۹۱۴ء قابل نہیں سمجھتے۔اسلام نے ان تمام خصوصیات کو مٹا دیا ہے اور صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تمام مخلوقات کا خدا ہے اور کسی خاص فرقہ سے خاص تعلق نہیں رکھتا۔قرآن شریف بتاتا ہے کہ نجات کا دارو مدار اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل پر رکھا ہے۔اور فضل کے جاذب اعمال صالح کو رکھا ہے۔نیک اعمال فضل کو جذب کرتے ہیں اور پھر فضل سے نجات ہوتی ہے اور جب تک کوئی شخص خواہ وہ کسی مذہب میں کیوں نہ داخل ہو اعمال صالح نہیں کرتا اسلام اس کی نسبت کبھی نہیں کہتا کہ وہ نجات پاسکتا ہے اور نہ اسلام یہ کہتا ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑائے ، عاجزی اور فروتنی دکھائے اعمال صالح کرے اور متقی بن جائے لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ اس کو اپنے حضور سے اس لئے نکال دیتا ہے کہ چونکہ تم فلاں قوم سے نہیں ہو اس لئے تمہیں کچھ اجر نہیں مل سکتا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود کا قول بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اول تو ہم کو آگ چھونے کی ہی نہیں کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کی برگزیدہ قوم کی اولاد سے ہیں۔بھلا یہ کبھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں عذاب دیا جائے۔عذاب دینے کے لئے کیا اور مخلوق تھوڑی ہے اور اگر ہم میں سے کسی کو عذاب دیا ہی گیا تو وہ بہت تھوڑا یعنی چند دن ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے پوچھو کہ کیا تم نے خدا سے عہد لیا ہے کہ تمہیں عذاب نہیں ہوگا۔اللہ تو اپنے عہد کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ تم جھوٹے ہو اور وہ بات کہتے ہو جس کو تم جانتے نہیں۔بدکار انسان ضرور سزا پائیں گے۔اور ابراہیم ، موسی ، ہارون ، داؤد وغیرہ انبیاء کی نسل سے ہونا کسی کو عذاب سے نہیں بچا سکتا اور مسلمانوں میں تو محمد صلی سیتم ) کی نسل سے ہونا بھی کسی کو عذاب سے چھڑ ا نہیں سکتا جب تک کہ نجات پانے کا جو راستہ ہے اس پر نہ چلا جائے اور اس طریقہ کو اختیار نہ کیا ہے جائے جس کو اختیار کر کے داؤ د داؤد بنا۔ابراہیم ابراہیم کہلایا۔موسیٰ موسیٰ ہوا اور محمد نے محمد کا لقب پایا۔جب تک کوئی ان کی تعلیم پر عمل نہیں کرتا خدا کے حضور اسے کوئی عزت اور کوئی رتبہ نہیں مل سکتا۔اسلام نے یہ بتا کر تمام قومی اور نسلی تعصبات کو تباہ کر دیا ہے کہ کسی خاص قوم اور خاص مذہب سے نجات وابستہ نہیں۔بلکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی رضا کے راستہ کو اختیار کرتا ہے وہی نجات پا سکتا ہے۔ایک ہندو، ایک آریہ، ایک عیسائی ، لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہنے سے وہی حقوق پا سکتا ہے جو دوسرے نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو ملتے ہیں۔پھر وہ مسلمان جو خواہ کتنا ہی