خطبات محمود (جلد 4) — Page 195
خطبات محمود جلد ۴ ۱۹۵ (۴۳) انعام ہمیشہ اطاعت کرنے والوں کو ہی ملا کرتا ہے (فرموده ۱۶۔اکتوبر ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا ايَّامًا مَّعْدُودَةً قُلْ اتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللهِ عَهْدًا فَلَنْ تُخْلِفَ اللهُ عَهْدَهُ اَمَ تَقُولُونَ عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَاحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ اس کے بعد فرمایا:۔نسلی اور قومی تعصب ہمیشہ سے دنیا میں چلا آیا ہے ہر ایک قوم اپنی نسبت چند ایسی خصوصیات تجویز کر لیتی ہے جن کا دوسروں کی طرف منسوب کر ناوہ پسند نہیں کرتی۔اسلام سے پیشتر کے جتنے مذاہب ہیں ان تمام کو جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی محدود اور مخصوص کر رکھا ہے جیسا کہ اور اپنے بڑے بڑے قومی آدمیوں کو۔ان مذاہب کی کتب کا مطالعہ کرنے اور پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم خدا کو اپنا مخصوص دیوتا مجھتی ہے۔چنانچہ یہود کی اس بات کو جائز نہیں سمجھتے کہ اور دنیا کے لوگ جنت میں داخل ہو سکتے ہیں۔یا یہ کبھی پسند نہیں کرتے کہ کوئی یہودی بھی دوزخ میں جاسکتا ہے۔یہی حال دوسری قوموں کا ہے خواہ وہ زرتشتی ہوں یا سناتنی ، آریہ ہوں یا بدھ تو ان مذہبوں نے اپنے لئے ایسی خصوصیات سمجھ لی ہوئی ہیں جن سے اور کسی کو متمتع ہونے کے