خطبات محمود (جلد 4) — Page 153
خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۳ سال ۱۹۱۴ء حصہ غلام نبی کا تھا۔اس نے ہمارے ساتھ ایک گاؤں میں جمعہ پڑھا۔وہ وہابی تھا۔اور وہابی جمعہ پڑھنے کے کے قائل ہوتے ہیں لیکن اس نے جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد چار رکعتیں اور پڑھیں۔ہم نے اس سے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کیا ہے تو وہ کہنے لگا کہ احتیاطی پڑھی ہے لیکن لوگ تو اس لئے احتیاطی پڑھتے ہیں کہ نماز نہیں ہوئی اور میں نے اس لئے پڑھی ہے کہ مار نہ پڑے کیونکہ ایسا نہ کرنے والے کو یہ لوگ مارتے ہیں۔تو یہ حال ہے مسلمانوں کا۔اول تو انہوں نے جمعہ کو ترک ہی کر دیا اور پھر جو پڑھتے ہیں انہیں ماریں پڑنے کا ڈر ہوتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں وحدت ، اتحاد اور یک جہتی قائم نہیں رہی اور یہ بھی قِرَدَةً خَاسِئِین ہو گئے ہیں اور دن بدن ذلیل ہوتے جاتے ہیں۔اتحاد میں خدا تعالیٰ نے بڑی عظیم الشان حکمتیں رکھی ہیں لیکن اب مسلمانوں میں سے کون روزانہ مسجدوں میں آتا ہے۔آئے دن سنا جاتا ہے کہ فلاں جگہ مسجد میں کتیا نے بچے دیئے۔فلاں جگہ کسی نے پاخانہ کر دیا وغیرہ وغیرہ جب انسان مسجدوں میں داخل نہ ہوں تو پھر مسجد میں درندوں اور پرندوں کا بسیرا نہ بنیں تو کیا بنیں؟ امراء مسجدوں میں آنا گناہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہم کسی ادنی درجہ کے آدمی کے ساتھ کھڑے ہوں۔جمعہ تو اس طرح چھوٹا ، باقی رہا حج۔امیر لوگ تو حج کو جاتے ہی نہیں۔غرباء جاتے ہیں جو بعض کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنے کی بجائے بے ایمان ہو کر آتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ حج کو جاؤ وہ تو جاتے نہیں اور جن کو حکم نہیں وہ جاتے ہیں۔تو نہ جانے والوں کا اس لئے ایمان ضائع ہو جاتا ہے کہ وہ حکم کی تعمیل نہیں کرتے اور دوسرے حکم عدولی کرتے ہیں اس لئے ان کو ابتلاء پیش آتے ہیں اور ذلیل و خوار ہو کر واپس آتے ہیں۔اجتماع کا حکم مسلمانوں کیلئے ایک ضروری ہے حکم تھا لیکن انہوں نے اِعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ کیا۔یہودکو اللہ تعالیٰ نے ذلیل کر کے آئندہ آنے والوں کیلئے ایسا عبرت بخش سبق رکھ دیا کہ جو متقیوں کیلئے نصیحت کا سامان ہو سکتا ہے۔آج تک یہودیوں کو سکھ نصیب نہیں ہوا۔سو یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ کا چھوٹے سے چھوٹا حکم بھی دراصل بہت بڑا حکم ہوتا ہے۔بھلا اتنے بڑے بادشاہ کا کوئی حکم چھوٹا ہو سکتا ہے۔بہت لوگ ہیں جو جمعہ کی نماز پڑھنے میں لا پرواہی کرتے ہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ احتیاط نہیں کرتے مسجد میں باتیں کرتے رہتے ہیں اور جو باتوں کی جرات نہیں کرتے وہ اشاروں سے کام لیتے ہیں یہ سب کچھ اختدَوْا فِي السَّبُتِ ہی ہے۔یہ اجتماعی