خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 150

خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۰ سال ۱۹۱۴ء تو جب صورت حال یہ ہے تو کسی کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ انسانی حالت ایک دن ، دودن ، سال دو سال میں کیا کچھ تغیر پذیر ہوگی اور کہاں کہاں نکل جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط میں نت نئے تغیرات کی ضرورت لاحق ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے جو طریق اور رستے انسانی ہدایت کے بتائے ہیں وہ کبھی نہیں بدل سکتے کیونکہ اس نے انسان کی ہر ایک حالت کو مد نظر رکھ کر اخذ کئے ہیں۔تو انسان کی ترقی کے لئے حقیقی اور کامل وہی راہ ہے جو خدا تعالیٰ نے بتائی ہے اور اسی پر چل کر انسان کامیاب ہوسکتا ہے۔لیکن جب انسان اس کے خلاف کرتا ہے تو بڑی بڑی ٹھوکریں کھاتا ہے اور شریعت کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بھی تباہ ہو جاتا ہے۔اگر کوئی دنیا میں ایسی شریعت ہے کہ اس کے احکام کو ترک کر کے کوئی کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ الہی شریعت نہیں ہے۔الہی شریعت وہی ہو سکتی ہے کہ جب کوئی انسان اس کو چھوڑے تو ذلیل و خوار ہو جاوے۔ایک سچی اور جھوٹی شریعت کا معیار ہی یہی ہے۔وہ شریعت جھوٹی ہے یا اگر کبھی سچی تھی تو اب اس میں اور باتیں مل گئیں ہیں یا لوگوں کی دست برد سے محفوظ نہیں ہے جس کے احکام کے چھوڑنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور بجا آوری کی صورت میں فائدہ نہیں ہوتا۔اس کے مقابلہ میں حقیقی اور سچی اور تغیر و تبدل سے محفوظ وہ شریعت ہے کہ جس کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کے انکار کی وجہ سے بھی کبھی کوئی سکھ نہیں پاسکتا۔اسی معیار کے ماتحت اسلام اور دوسرے مذاہب کا فیصلہ ہوسکتا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔اگرچہ یہ ایک الگ مضمون ہے کہ اسلامی احکام کو چھوڑنے کی وجہ سے کیا کیا بدنتائج پیدا ہوتے ہیں اور کیوں؟ دوسرے مذاہب کے احکام کو چھوڑنے سے بدنتائج پیدا ہونے تو الگ رہے مجبورا چھوڑنے پڑتے ہیں اور چھوڑنے میں فائدہ ہوتا ہے۔اس وقت میں اس مضمون سے قطع نظر کر کے اس موضوع کو یہاں بیان کرتا ہوں جس کے متعلق میں نے آیت پڑھی ہے۔یہاں قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک حکم بیان فرمایا ہے جو یہود کو دیا گیا تھا اور جو بظاہر چھوٹا سا معلوم ہوتا ہے یہ حکم مسلمانوں کو بھی دیا ہے لیکن آج کل مسلمان اس کی پر واہ نہیں کرتے۔یہی تو وجہ ہے کہ یہ دن بدن ذلیل ہوئے جا رہے ہیں۔مختلف شریعتوں میں ہفتے میں ایک دن خاص عبادت کا مقرر ہے گو اس میں اختلاف ہے کیونکہ شمسی حساب رکھنے والی