خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 149

خطبات محمود جلد ۴ ۱۴۹ (۳۴) سال ۱۹۱۴ء خدا تعالیٰ کے احکام سے لا پرواہی انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے (فرمودہ ۷۔اگست ۱۹۱۴ ء ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔وَلَقَد عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ فَجَعَلْنَهَا نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرما کر اور ان کی حالت کو مد نظر رکھ کر ترقی دینے کیلئے قواعد مقرر کئے ہیں۔بہت سے انسان بھی قواعد بناتے ہیں لیکن خدا کے قواعد کے مقابلہ میں انسانی قواعد کوئی وقعت نہیں رکھتے۔کیونکہ انسان لاعلم اور آئندہ کے واقعات سے بے خبر، انسانی فطرت سے نا آشنا، انسانی فطرت کے اختلافات سے ناواقف ، انسانی جذبات سے بے علم ہوتا ہے اس لئے اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی اصلاح کیلئے کونسے قانون اور قواعد مفید ہو سکتے ہیں۔اگر تمام دنیا کے لوگ یکساں خیالات یا ایک ارادہ یا ایک ہی جیسے جذبات رکھتے ہوں اور پھر دنیا میں ایک ہی جیسے واقعات ہر روز پیش آتے رہیں تو بے شک ایک انسان کے قواعد کام دے سکتے ہیں لیکن انسانی حالت میں بہت ہی زیادہ اختلافات ہیں۔ہر ایک واقعہ آنے والے تغیرات کا منتظر ہوتا ہے۔آج کے خیالات کل کے خیالات کے خلاف ظہور پذیر ہوتے ہیں اور کچھ پتہ نہیں لگتا کہ ایک منٹ یا ایک سیکنڈ میں اور کیا خیالات ہو جائیں گے اور دوسر المحہ انسان پر کیسا گزرے گا۔