خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 115

خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۵ (۲۷) نعمتیں ملنے پر خدا تعالیٰ کے زیادہ فرمانبردار بنو (فرمودہ ۱۹۔جون ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشہد وتعوّ ذاور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔وَاذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَ قُوْلُوْا حِظَةٌ تَغْفِرْ لَكُمْ خَطِيكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ اس کے بعد فرمایا:۔دنیا کے آرام اور دنیا کی نعمتیں چونکہ جلد انسان تک پہنچ جاتی ہیں اس لئے اکثر لوگ اس دنیا کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور اس کی وجہ اکثر ناواقفی ہی ہوتی ہیں۔کسی بچے کے ہاتھ میں اگر ایک ہیرا ہو تو تم اس سے ایک خربوزہ دے کر ہیرا لے سکتے ہو۔وہ چونکہ اس کے فوائد یا اس کی ماہیت کو نہیں جانتا اس لئے وہ ایک تھوڑی سی خوشنما چیز کے بدلے اسے دے دے گا۔وہ تو اسے معمولی پتھروں کی طرح ایک پتھر ہی سمجھے گا۔ایک دفعہ ایک سوداگر کی ہیروں کی تحصیلی گم ہو گئی وہ کسی بچے کے ہاتھ میں آگئی اس نے وہ پیسے کے تین تین اپنے ہم جماعتوں کو دیدیئے۔اس کے نزدیک پیسوں کی قدر ان پتھروں سے زیادہ تھی۔جب اس سے پولیس نے پتہ لگنے پر دریافت کیا تو وہ کہنے لگا بازار میں سے یہ تھیلی مجھے ملی ہے اور اب ہم ان سے کھیلیں گے کیونکہ یہ کھیلنے کی گولیاں ہیں۔یہ سب ان کی ناواقفیت تھی۔اکثر لوگ ناواقفیت کی وجہ سے اعلیٰ چیز کے بدلے ادنی کو اختیار کر لیتے ہیں۔جتنی جتنی کسی چیز کی واقفیت ہو اتنی ہی اس کی قدر ہوتی ہے۔جتنی ناواقفیت ہو اتنا ہی انسان اعلیٰ کو ادنی سے بدل لیتا ہے۔