خطبات محمود (جلد 4) — Page 114
خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۴ سال ۱۹۱۴ء اعمال کر کے اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔سواگر تمہیں کوئی دکھ پہنچے تو وہ تمہارے ہی اپنے کئے کا پھل ہے خدا ظالم نہیں وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔کوئی سائل اگر کسی امیر سے کچھ مانگے تو وہ امیر اسے دے دیتا ہے خواہ وہ کسی وجہ سے دے۔مگر اللہ تعالیٰ تو بلند شان والا ہے تم اس کے دروازے پر گر جاؤ وہ تمہیں دے گا۔تم اس کے سامنے عاجزی کرو گے تو ر ڈ نہ کئے جاؤ گے۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے تجربہ کیا ہے ہے کہ اگر کسی کے دل میں تڑپ ہو اور سچی تڑپ کسی کام کیلئے ہوتو اللہ تعالیٰ ضرور ضرور وہ کام کر دیتا ہے بلکہ بعض بعض باتیں سورج ابھی غروب نہیں ہوتا کہ اس سے پہلے پہلے ہی ہو جاتی ہیں۔یہ جو مشہور ہے کہ فلاں بزرگ کیلئے سورج کو روک دیا گیا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ جو کام وہ کرنا چاہتے تھے وہ خواہ کتنے دنوں میں ہونے والا ہو یا جو کام دس سال میں جا کر ہونا تھا۔جس کام کو دوسرے لوگ ہزاروں ہزار سال میں کر سکتے تھے وہ ان کیلئے سورج کے غروب ہونے سے پہلے کر دیا گیا۔نبی کریم صلی ا یہ تم نے جو کام ایک ایک گھنٹہ میں کیا ، دنیا کے لوگ اسے لاکھوں لاکھ سال میں نہیں کر سکتے ٹمپرنس (TEMPERANCE) سوسائٹیاں سالہا سال سے اس کوشش میں ہیں شراب رک جاوے مگر وہ تو ی بڑھ رہا ہے۔مگر آنحضرت سی یا یہی تم نے ایک حکم دیا اور تمام عرب میں اسی دن سے شراب گرا دیا گیا۔اور پھر بھی وہاں شراب کا استعمال نہ ہوا۔پس تم اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کرو اور تقوی اختیار کرو، اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔سستی غفلت چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ ہم پر اپنا فضل کرے۔اس کا ہمارے ساتھ تعلق ہو اور محبت ہو۔جس رستے پر حضرت مسیح موعود ہمیں چلانا چاہتے تھے اس پر ہم چلیں۔ہمارا کھانا پینا پہنا سب اسی کیلئے ہو اور اس کی رضامندی کے ماتحت ہو اور ہمارا کوئی کام اس کے حکم کے خلاف نہ ہو۔ل البقرة: ٥٨ تا ٦٠ تذکرہ صفحہ ۳۹۷۔ایڈیشن چہارم ے تذکرہ صفحہ ۴۷۱۔ایڈیشن چہارم متی باب ۲۱ آیت ۲۱ (مفہوما ) (الفضل ۱۷۔جون ۱۹۱۴ ء )