خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 84

خطبات محمود جلد سوم احسن صاحب امروہوی سے ملتی جلتی ہے اور وہ پاگل ہو گیا ہے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ابلیس حملہ کرتا ہے میں بار بار لاحول پڑھتا ہوں وہ رکتا نہیں آخر اَعُوذُ پڑھا تو وہ دور ہوا۔سو اس وقت کس کو معلوم تھا کہ سید محمد احسن کی یہ حالت ہو جائے گی۔غرض علم وغیرہ ایک دم جاتے رہتے ہیں۔البتہ اللہ پر جن کی نظر ہو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔دیکھو ہزاروں نبی گزرے ہیں کوئی ان میں سے مخبوط الحواس نہیں ہوا۔کیونکہ ان کو جو کچھ ملا خدا کے خزانے سے ملا اور وہ ہر وقت خدا کے خزانے سے حصہ پاتے تھے۔پس خوب یاد رکھو کہ ہر کام جب ہی بابرکت ہو سکتا ہے کہ خدا پر نظر ہو۔یہی ایک چیز محفوظ رکھنے والی ہے۔تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کامل نمونہ ہیں۔آپ نے ہر کام سے پہلے بسم ) الرَّحْمنِ الرَّحِیم سکھائی اور آخر میں الحمد لله تا اول و آخر خدا پر نظر رہے۔دنیا میں ب سے غافل کرنے والی دو چیزیں ہیں۔ایک قومی کا زور شہوت - دوم نیند۔دونوں موقع پر رسول اللہ نے تعلیم دی کہ خدا کا نام لو اور اسی سے طاقت و حفاظت چاہو۔- یمی شادی و بیاہ کا معاملہ ہے۔اب کسی کو انجام کیا معلوم۔ممکن ہے انسان جسے رحمت سمجھتا ہو وہ زحمت ہو جائے جسے نعمت خیال کیا وہ نعمت بن جائے اس موقع پر یہی تعلیم دی کہ خدا پر نظر رکھو اور اس کی حمد کرتے ہوئے اس سے استقامت و استعاذہ چاہو۔اور اے لوگو تقوی کرو۔کس کا؟ رب کا۔کیوں ؟ وہ ربوبیت کرنے والا ہے۔رب بھی تمہارا جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے بڑوں کو بھی اور پھر آئندہ بھی وہی خالق ہے۔نکاح میں تین باتیں ہے۔تمہاری قوتیں اس قابل ہوں کہ نکاح کرو اور اس خاص عورت سے نباہ کرو۔بیوی کی قوتیں نکاح کے قابل ہیں اور وہ تمہارے ساتھ نباہ کر سکتی ہے۔۔دونوں کے ملاپ سے جو نتیجہ نکلے گا وہ بابرکت ہو گا۔اب یہ تین چیزیں ہیں کس کو معلوم ہے کہ اس وقت کیا نتیجہ نکلے گا۔انسان سمجھتا ہے کہ میں نے سب کچھ دیکھ بھال لیا ہے مگر نتیجہ کچھ اور نکل آتا ہے۔بعض اوقات دوسرے کی نسبت غلط فہمی ہوتی ہے اور بعض اوقات خود اپنی نسبت۔یعنی انسان اپنے آپ کو نباہ کے قابل سمجھتا ہے اور دراصل نہیں ہوتا۔وہ سمجھتا ہے کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں اور کر کچھ بھی نہیں سکتا۔اسی طرح بعض عورتیں ہیں۔شکل بھی ہے سلیقہ بھی ہے مگر نکاح کے بعد مسلولہ ہو جاتی