خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 83

خطبات محمود ۸۳ لئے پہلے انکار ہوتا ہے لیکن آخر لوگ مان جاتے ہیں مثلاً سرسید احمد خان نے کہا کہ انگریزی پڑھنی چاہئے۔ابتداء میں بے شک بعض لوگوں نے مخالفت کی لیکن یہ وہ بات تھی جس کی تائید میں زمانہ کے حالات تھے۔جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ہمارے ہم عصر انگریزی پڑھ کر فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ملازمت بھی بغیر انگریزی پڑھے کے نہیں مل سکتی تو آخر سرسید کی بات مان لی۔اب یہ کامیابی جو ہے معجزہ نہیں نشان نہیں۔یہ کامیابی پانے والا زیادہ سے زیادہ ایسا داتا کہلا سکتا ہے جس نے دنیا کے خیالات کو پہلے پڑھ لیا۔خدا کی طرف سے یہ بات معجزہ کہلائے گی جو لوگوں کے خیالات اور رسم و عادات کے خلاف ہو اور جسے پانے کے لئے لوگ تیار نہ ہوں اور نہ زمانے کے حالات اس کے مساعد ہوں مثلاً حضرت صاحب ( مسیح موعود علیہ السلام) نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ جاری ہے۔یہ وہ بات ہے جس کے مسلمان بھی قائل نہ تھے اور دوسرے مذاہب والے تو اس سے پہلے وحی کا سلسلہ بند کر چکے تھے۔پھر یورپ کا یہ زور کہ انہوں نے ہائی کرلیسٹر کے ماتحت تورات و انجیل کے الہام کی بھی دھجیاں اڑا دی تھیں اور خواب و رویا کو ایسا بے اعتبار ثابت کیا کہ بعض لوگوں کو خواب کرا کے دکھا دیا۔باوجود ان خیالات کے حضرت صاحب نے ثابت کر دیا کہ الہام و وحی کا سلسلہ جاری ہے اور وہ دماغی بناوٹ سے بالا تر ہے۔غرض مامورین الہی دنیا جدھر چلے اس کے مقابل چلتے ہیں۔وفات مسیح منوانا حضرت صاحب کا بڑا کام نہیں بلکہ مسیحیت منوانا مشکل تھا جو آپ نے کئی لاکھ کی جماعت سے منوالی۔بعض دفعہ لوگ کہتے کہ مرزا صاحب نے کونسا بڑا کام کیا۔وفات مسیح تو سرسید بھی مانتا تھا اور اس کے ہم خیالوں کی بہت سی تعداد مانتی ہے۔ہم کہتے ہیں وفات مسیح تو آپ کی راہ میں درمیانی روک تھی مسیحیت منوانا بڑا کام تھا۔اور آنحضرت کے بعد نبوت کا اجراء جو آپ نے کیا۔الغرض خدا تعالی کی رحمتیں بہت وسیع ہوتی ہیں اس کے انعامات کی کوئی حد نہیں اس لئے تمام کاموں میں انسانوں کی نظر خدا پر ہی پڑنی چاہئے کیونکہ سب چیزیں زوال پذیر ہیں مگر خدا کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔بعض لوگوں کو اپنے علم پر غرور ہوتا ہے بعض کو دولت پر مگر کیا معلوم کہ شام کو ایک شخص دولت مند سوئے اور صبح غریب ہو۔ابھی ایک عالم فاضل محققانہ تقریر کر رہا ہو اور دوسرے روز پاگل ہو جائے۔۱۹۱۴ء میں میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ ایک بڑا شخص ہے اس کی شکل مولوی سید محمد