خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 675 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 675

460 خطبات محمود جائے تو وہاں اچھے پیمانہ پر چھپے گا۔بات تو بڑی معقول تھی مگر میرا دل نہیں چاہتا کہ جس رسالہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شائع کرنا شروع کیا تھا اس کو ہم دوسرے علاقہ میں منتقل کر دیں۔جہاں تک ہو سکے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہمیں اچھے آدمی پیدا ہو جائیں اور وہ اس رسالہ کو جاری رکھیں۔چاہے اس کا دوسرا ایڈیشن وہاں بھی چھپ جائے۔امریکہ کے بعض اخبار ایسے ہیں جن کا ایک ایڈیشن کینیڈا میں نکلتا ہے اور ایک انگلینڈ میں نکلتا ہے اب ریڈرز ڈائجسٹ READERS DIGEST کا ایک ایڈیشن پاکستان میں بھی نکلنا شروع ہوا ہے۔تو بے شک اس کے دو ایڈیشن کر دیئے جائیں ایک امریکہ سے چھپے اور ایک پاکستان سے چھپے۔مگر میرا دل چاہتا ہے کہ یہ ہمارے قریب سے چھپے تاکہ ہمارے دلوں کو یہ تسلی رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو امانت ہمارے سپرد کی تھی اس کو ہم نے سنبھالا ہوا ہے۔یہ نکاح جو امتہ المتین کا سید محمود احمد صاحب سے قرار پایا ہے چونکہ سید محمود احمد صاحب انگلینڈ میں ہیں اور وہ عزیزم مرزا عزیز احمد صاحب کے سالے ہیں اس لئے ان کی طرف سے ان کو ایجاب و قبول کا اختیار ملا ہے۔اپنی لڑکی کی طرف سے میں قبولیت کا اعلان کرتا ہوں کہ امتہ المتین جو میری لڑکی ہے اس کو اپنا نکاح ایک ہزار روپیه مهر پر سید محمود احمد صاحب ابن میر محمد اسحق صاحب مرحوم سے منظور ہے۔مرزا عزیز احمد صاحب آپ فرما ئیں کہ سید محمود احمد صاحب کی طرف سے ان کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر میری لڑکی امتہ المتین سے منظور ہے۔انہوں نے منظوری کا اعلان کیا فرمایا اس کے بعد حضور نے باقی سات نکاحوں کا اعلان فرمایا مرزا خورشید احمد صاحب ابن مکرم مرزا عزیز احمد صاحب کے نکاح کا اعلان کرتے ہوئے یہ لڑکا بھی ہمارے خاندان میں سے وقف ہے۔مرزا عزیز احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنے اس بچہ کو اعلیٰ تعلیم دلا میں چنانچہ ان کا یہ لڑکا ایم اے میں پڑھ رہا ہے ابھی پاس تو نہیں ہوا۔مگر انگریزی میں ایم اے کا امتحان دے رہا ہے اور کہتے ہیں کہ انگریزی میں بڑا لائق ہے۔میرا ارادہ ہے کہ بعد میں یہ کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور نے فرمایا اب سب احباب دعا کریں اس کے بعد میں کچھ کلمات کہہ کے اور دعا کر کے جلسہ کا