خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 563

خطبات محمود ۵۶۳ میں بعض اور شہر بھی بڑھ جاتے ہیں حالانکہ ان شہروں کے بڑھنے کی وہ وجوہات نہیں تھیں۔بے شک اب ہوتی جائیں گی کیونکہ خدا نے آخر قادیان کو ہمیشہ ان باتوں سے محروم نہیں رکھنا یہاں بھی تجارتیں ہوں گی اور نئے سے نئے کارخانے کھلتے چلے جائیں گے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائے دعوئی سے لے کر آج سے دو تین سال پہلے تک قادیان کی ترقی کا کوئی مادی ذریعہ نہیں تھا مگر پھر بھی خدا نے اسے بڑھا کر دکھا دیا اور اس طرح ثابت کر دیا کہ احمدیت اس کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔اسی طرح قادیان میں جو مختلف قوموں کے افراد کے آپس میں پیوند لگتے ہیں وہ بھی اپنی ذات میں خدا تعالی کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔شاید قاریان میں جتنے نکاح مختلف قوموں اور مختلف علاقوں کے لوگوں کے آپس میں ہوتے ہیں حالانکہ قادیان کی آبادی صرف دس ہزار ہے اتنے نکاح مختلف علاقوں اور مختلف زموں کے لوگوں کے درمیان شاید لاہور جیسے شہر میں بھی نہیں ہوتے ہوں گے جس کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے۔یہ ایک بہت بڑا نشان ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔جب تک اس زمانہ کے لوگ زندہ رہیں گے ان نشانات کو تازہ رکھیں گے مگر بعد میں آنے والے ان نشانات کو صرف کتابوں میں پڑھیں گے اور کتابوں میں پڑھ کر وہ لطف نہیں اٹھا سکیں گے جو ہم اٹھاتے ہیں۔ہم کتابوں میں ہمیشہ پڑھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو کفار نے یہ دکھ دیا، وہ دکھ دیا اور پھر ان دکھوں کے بعد خدا تعالٰی نے کفار کو اس رنگ میں اپنے عذاب کا نشانہ بنایا مگر اس کا ہمیں وہ نہیں آسکتا جو حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابہ کو آیا کرتا تھا اور نہ اگلی نسل کو وہ لطف آسکتا ہے جو آج ہمیں اللہ تعالٰی کے نشانات دیکھ کر آتا ہے آئندہ آنے والے دل کو تسلی دینے کے لئے ضرور خیال کر لیا کرتے ہیں کہ اتنی گری ہوئی حالت تو نہیں ہو سکتی تھی۔بہر حال جو دیکھنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی یوپی کا باشندہ ہوتا ہے، کوئی سی پی اور بنگال کا رہنے والا ہوتا ہے، کوئی سرحد میں رہتا ہے، کوئی سندھ میں رہتا ہے، کوئی پنجاب میں رہتا ہے اور پھر ان کے آپس میں احمدیت کے ذریعہ اس طرح جوڑ ملتے ہیں کہ وہ دونوں ایک چیز ہو کر رہ جاتے ہیں۔بعض دفعہ عادات کا فرق ہوتا ہے، بعض دفعہ رسم در اوج میں فرق ہوتا ہے، بعض دفعہ تمدن میں فرق ہوتا ہے، بعض دفعہ زبان میں فرق ہوتا ہے مگر پھر بھی ان کے آپس میں نکاح ہو جاتے ہیں۔ہم نے قادیان میں ٹھیٹھ پنجابیوں کو ٹھیٹھ ہندوستانیوں سے بیاہ کرتے دیکھا ہے۔ہم نے قادیان میں ایسا بھی دیکھا ہے کہ بیوی اردو کا ایک لفظ نہیں