خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 37

خطبات محمود ۳۷ جلد سوم ہونے کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس وقت لوگ چونکہ جاہل تھے اس لئے ان کی تعلیم مان گئے چونکہ رسول کریم کی قوت قدسیہ پر یہ بہت بڑا اعتراض ہے اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ یہ آپ کی ذات والا صفات پر رہے اس لئے آپ کے بروز کو ایسے زمانہ میں بھیجا جس میں تمام دم اپنے کمال کو پہنچے ہوئے ہیں اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ تمام انبیاء ایسے زمانے میں بھیجے گئے جبکہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی تھی۔مگر رسول کریم کی بعثت ثانیہ ایسے زمانہ میں ہوئی جبکہ دنیاوی علوم اور عقلیں کمال کو پہنچی ہوئی ہیں تو اس بعثت میں خدا تعالی نے اس اعتراض کو کہ رسول کریم یا ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جبکہ جہالت اور تاریکی پھیلی ہوئی تھی اس لئے کامیاب ہو گئے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے دور کر دیا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی یہ بھی غرض ہے کہ اسلام پر مخالفین کی طرف سے جو اعتراض کئے جاتے ہیں انہیں دور کر دیں۔آج یورپ کا بہت بڑا اعتراض یہی ہے کہ اس زمانہ میں چونکہ جہالت پھیلی ہوئی تھی اس لئے محمد ال ) جو دانا اور عقلمند انسان تھا اس نے لوگوں کو اپنے پیچھے لگالیا ورنہ خدا کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اب جبکہ یورپ کا دعوی ہے کہ وہ علوم کی انتہائی ترقی کو پہنچ گیا ہے اپنے ایک نبی اور رسول کریم کے غلام کو بھیج دیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ اس کی پتلی سی شاخ کے سامنے بڑے بڑے تناور درخت مرجھا مرجھا کر گرنے لگ گئے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے یہ نشان خاص عظمت اور شان کے ساتھ دکھایا ہے اور اس زمانہ میں دکھایا ہے جب کہ دنیا اس بات کی قائل ہو رہی ہے کہ خدا مردہ کی حیثیت سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتا اور اس کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔بادشاہتیں اڑ رہی ہیں اور جمہوریت پھیل رہی ہے اور سب سے اعلیٰ درجہ کی سلطنت اس طریق کی سمجھی گئی ہے کہ ایک شخص ہو جس کو بادشاہ کا نام دے کر بٹھا دیا جائے اور اسے کہا جائے کہ تمہارا کام سوائے دستخط کر دینے کے اور کچھ نہیں کسی بات میں دخل دینے کا تمہیں اختیار نہ ہو گا۔اس کے مطابق خدا کی حیثیت بھی قرار دی گئی اور لکھ دیا کہ دنیا کے کاروبار میں خدا کا کوئی دخل نہیں اس قسم کے خیالات کہ وہ نبی بھیجتا ہے یا معجزے دکھاتا ہے جاہلانہ باتیں ہیں۔خدا نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ دیا ہے کہ خود اپنے لئے سامان مہیا کرو۔ان خیالات کے قلع قمع کے لئے خدا تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کو بھیجا اور اس وقت