خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 36

خطبات محمود جلد سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعوی کیا تو آپ کی کیا کیفیت اور کیا حال تھا۔پھر کس طرح اس وقت کیڑے مکوڑوں کی حیثیت رکھنے والے آپ کے ساتھ چھٹے اور جو بڑی حیثیت رکھنے والے تھے یعنی جن کو بیلوں، بھینسوں اور گدھوں کی حیثیت حاصل تھی وہ کس طرح آپ کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔پہلے کیڑے مکوڑوں نے اس پودے کو برباد کر ڈالنے کی کوشش کی مگر وہ بڑھتا ہی گیا۔پھر بیلوں اور بھینسوں نے اس کے خلاف زور لگایا لیکن وہی پودا جو حقارت سے دیکھا گیا تھا اس نے اس قدر شاخیں نکالیں کہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک ٹہنی انگلینڈ میں ہے تو ایک ماریشس میں، ایک چین میں ہے تو ایک سیلون میں، ایک نائیجیریا میں ہے تو ایک مصر میں، ایک ایران میں ہے تو ایک افغانستان میں۔ہم پوچھتے ہیں سوائے نبوت کے اور کونسا ایسا درخت ہے جس کی شاخیں اتنی اتنی دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔دیکھو سب درختوں کا سایہ محدود ہوتا ہے اور ان کی شاخیں تھوڑی دور تک پھیلی ہوتی ہیں مگر نبوت کے درخت کی شاخیں نکلتی ہیں تو دور دراز ملکوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ہاں ابتداء میں ان شاخوں کا بھی وہی حال ہوتا ہے جو نبی کا ہوتا ہے۔پہلے پہل وہ شاخیں پتلی اور باریک کی ہوتی ہیں کہ ان میں سے ایک ایک کے نیچے دو تین چار دس پندرہ میں آدمی ہی بیٹھ سکتے ہیں اور زیادہ لمبی ہونے کی وجہ سے پتلی اور کمزور نظر آتی ہیں مثلاً انگلینڈ میں چھ ہزار میل کی لمبائی تک جو شاخ پہنچی ہے وہ اتنی لمبی ہونے کی وجہ سے باریک ہی ہونی چاہئے لیکن جس طرح دیکھتے دیکھتے نبوت کا بیج پھوٹا اور پھیلا اسی طرح یہ شاخ بھی موٹی ہوئی شروع ہو گئی ہے اور پتے نکل رہے ہیں گو ابھی لوگ اسے تماشہ کے طور پر ہی دیکھتے ہیں اور اس کی اسی لئے پرواہ نہیں کرتے کہ یہ خود بخود ہمارے ہوئے ہوئے کھیتوں اور درختوں کے سائے کے نیچے جل جائے گی۔مگر خدا کے فضل سے وہ دن آئے گا جبکہ وہ پھیلتی پھیلتی اس قدر پھیل جائے گی کہ سب کی زراعتیں اس کے مقابلہ میں جل جائیں گی۔غرض ایک عجیب نظارہ ہے اور ایسا عجیب نظارہ ہے کہ اس سے عجیب تر دنیا میں کوئی نظارہ نہیں۔اسے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دیکھا اور ایسا ہی دیکھا جیسا اور نبیوں کے وقت میں ہوا بلکہ اور کئی نبیوں سے بڑھ کر دیکھا اس لئے کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت رسول کریم کی دوسری بعثت ہے۔پھر بلحاظ اس کے کہ اس زمانہ میں علوم کی ترقی ہو گئی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے متعلق باوجود آپ کی قوت قدسیہ کے کمال پر پہنچے